حضرت غوث علی شاہ قلندری قادری متعہ کے متعلق ایک واقعہ عبرت بیان فرماتے ہیں، جو تذکرہ غوثیہ کے صفحہ 113 سے نقل کیا جاتا ہے امید ہے اس سے دلدادگانِ متعہ عبرت حاصل کر کے قولاً و فعلاً تائب ہو جائیں گے۔
لکھنؤ میں ایک امیر زادہ شیعہ ہمارے پاس آیا کرتا تھا اتفاق سے اس کی تاریخِ نکاح قرار پائی برأت کے وقت خود آیا اور با اہتمام ایک ہاتھی پر سوار کر کے ہمیں بھی ساتھ لے کر گیا اور حسبِ وعدہ ایک مکان میں اتارا کوئی آدھی رات گزری ہوگی کہ نوشہ کا باپ بیرمِ عقد میں شریک ہونے کے لیے ہم کو لے گیا صیغہ شروع ہونے کو تھا کہ ایک دایہ سرِ عقل آ کر کہنے لگی کہ اس نیک بخت پارسا لڑکی کو حمل بھی ہے، جو ہرگز حرام کا نہیں بلکہ متعہ شرعی کا ہے۔
یہ بات سن کر دولہا چونکا اور وہاں سے اٹھا اور کہہ اٹھا کہ میں نکاح نہیں کرتا ہر چند لوگوں نے سمجھایا، ایک نہ مانی اس کے باپ نے پھر کہا کہ صاحب! یہ آپ کا معتقد ہے، کچھ آپ ہی اس کو سمجھائیں لیکن کسی کی نہ مانی ناچار ہم نے پاس جا کر کہا کہ صاحبزادہ! وجہِ انکار کیا ہے؟ بولا: حضرت جی! بچپن کی عادت کی ہوئی، آئندہ کب چھوٹے گی؟ ہم نے کہا: میاں! جب ہمارے مذہب میں یہ امر جائز و درست ہے تو برا کیوں سمجھتے ہو؟ کہا: صاحب! ایسے مذہب کو بھی سلام ہے۔
اس کے باپ نے کہا: کیا تو سنی ہو گیا؟ کہا: پہلے تو نہیں تھا، مگر اب میں سنی ہو گیا یہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا محفل درہم برہم ہو گئی۔
ہم بھی اپنے مکان پر چلے آئے صبح کو وہ امیرزادہ آیا اور کہنے لگا: مجھ کو مرید کر لیجیے۔ ہم نے کہا: بھائی! ہم ہیں قادری اور تم کو ان سے عداوت ہے، پھر بات کیوں کر بنے گی؟ ع
اس کی رسوائی میں ہے جس سے تجھے بیر ہے۔
جواب دیا حضرت! گزشتہ سے توبہ اور آئندہ کو ان کا غلام ہوں جب اس نے بہت اصرار کیا تو مجبوراً ہم نے بیعت کر لیا زمانہ تک خط آتے رہے، پھر کچھ حال معلوم نہ ہوا خدا جانے زندہ بھی ہے کہ نہیں۔ واللہ اعلم۔