سیدنا حسینؓ کی شہادت کی نبوی پیشن گوئی
مولانا اقبال رنگونیبعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے سیدنا حسینؓ کی شہادت کی پیشن گوئی بھی فرما دی تھی اور علماء نے اسے بھی دلائل نبوت میں لکھا ہے، ام الفضل بنت حارثؓ کہتی ہیں کہ وہ حضور اکرمﷺ کے پاس آئیں، اس وقت بچہ (سیدنا حسینؓ) میری گود میں تھا میں نے حضورﷺ کی گود میں رکھ دیا اس کے بعد جب میں نے حضورﷺ کی طرف دیکھا تو آپﷺ کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے میں نے پوچھا اے اللہ کے نبیﷺ، میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان ہوں کیا بات ہے؟ آپﷺ نے فرمایا میرے پاس جبرائیلؑ آئے انہوں نے مجھے خبر دی کہ میری امت عنقریب میرے اس بیٹے کو قتل کر دے گی۔
فَأَخْبَرَنِي اَنَّ أُمَتِي سَتُقْتَلُ أِبْنِي هَذَا
(دلائل النبوۃ: جلد6 صفحہ468)
حضرت ام الفضلؓ کہتی ہیں کہ میں نے کہا اس بیٹے کو؟ آپﷺ نے فرمایا ہاں اور وہ میرے پاس اس جگہ کی مٹی بھی لائے تھے
(ترتيب الامالی لیحی ابن الحسين رضی اللہ عنہ الشجری الجرجانی : 499ه)
بلکہ آپﷺ نے اس کی پیشن گوئی فرمائی کہ وہ نہر فرات کے کنارے شہید کیے جائیں گے اور آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جبرائیل امین نے مجھے اس کی خبر دی ہے، قَامَ مِنْ عِنْدِي جِبْرِيْلُ قَبْلُ، فَحَدَّثَنِي اَنَّ الْحُسَيْنُ يُقْتَلُ بِشَطِّ الْفُرَاتِ۔ (مسند احمد: جلد 2 صفحہ27)
ظاہر ہے کہ یہ خبر سن کر حضورﷺ کو رنج اور دکھ ہوا ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس پر آپﷺ کی آنکھوں سے آنسو بھی جاری ہو گئے تھے۔(مجمع الزوائر: جلد9 صفحہ190)
مگر آپﷺ نے اس پر اللہ سے کوئی شکوہ شکایت نہیں کیا اور نہ کوئی ماتمی محفل سجائی تھی آپﷺ جانتے تھے کہ یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اس فیصلے پر راضی رہنا ہی بندگی کی شان ہے۔
