حرمت متعہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع…

حرمت متعہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 3

جب سیدنا عمر فاروقؓ نے یہ اعلان بر سرِ منبر علی رؤوس الاشہاد فرمایا تھا، تو باوجود اس امر کے کہ کل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جمع تھے، مگر کسی نے بھی اس حکم کی تردید نہیں فرمائی تھی۔ جس سے یہ اٹل نتیجہ نکلتا ہے کہ ان سب کو متعہ کے حرام ہونے کا علم تھا، ورنہ ایسی خاموشی منجر بہ کفر ہے۔

(سیوطی نے روایاتِ عمر میں تحریمِ متعہ بلفظِ مطلق لکھا ہے، نہ متعۃ النساء اس لیے یہ مبحث عنہ سے غیر متعلق ہے یقیناً اس سے مراد تمتع الحج ہے، یعنی فسخ الحج الی العمرہ، جسے جمہور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جائز نہیں سمجھا اور سیدنا عمرؓ سختی کے ساتھ منع فرماتے تھے۔ اس تابیّدی ممانعت کی سند یہ ہے: 

یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ، اَفَسْخُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّۃً اَمْ لِلنَّاسِ عَامَّۃً؟ قَالَ بَلْ لَنَا۔ رواہ النسائی)

اس اعتراض کی زد سے بچنے کے لیے شیعوں نے فوراً صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خاموشی کو سیدنا عمرؓ کی ہیبت کی طرف منسوب کر دیا ہے اس جگہ چونکہ ان کو کوئی اور ذریعہ نجات نظر نہیں آیا، اس لیے مجبوراً آپ کی ہیبت ناک شجاعت کی حقیقت کا اعتراف کیا ہے حالانکہ دوسری جگہ جہاں ان کو آپ کی مفروضہ بے علمی کو ثابت کرنا منظور تھا، انہوں نے خلیفہ وقت کو تو محض ایک مٹی کا بت بنا دیا، اور ایک حقیر عورت میں بذریعہ پمپ اس قدر جرأت و اہمیت بھر دی ہے کہ وہ سرِ مجلس آپ کو عینِ خطبہ کے دوران میں روک کر یہ الفاظ کہتی ہے: 

وَّاٰتَيۡتُمۡ اِحۡدٰٮهُنَّ قِنۡطَارًا فَلَا تَاۡخُذُوۡا مِنۡهُ شَيۡــئًا‌ الخ۔(سورۃ النساء: آیت 20)

اگر یہ بات درست ہے تو کیا کل اصحابِ رسول میں اس عورت کے برابر بھی غیرتِ ایمانی نہ تھی کہ چپ چاپ بیٹھے خطبہ سنتے رہے؟ اور پھر نہ صرف اس کو محض سننے پر ہی اکتفاء کیا، بلکہ اپنی زندگی بھر بھی کسی ایک شخص کو اس کے خلاف عمل پیرا ہونے کا خیال تک نہ آیا؟ کیا سیدنا عمرؓ کی وہ سابقہ ہیبت اس موقع پر کسی نے عاریۃً مانگ لی تھی، جس نے ایک دفعہ تو کل مردوں کے منہ پر مہرِ سکوت لگا دی اور دوسری دفعہ ایک عورت کی زبان کو بھی لگام نہ دے سکی؟

رافضیوں کا قلم پیسہ کمپنی کے جادوگر کی جادو کی چھڑی ہے، جس کی مدد سے ایک منٹ میں ایک شخص کو شیرِ نیستاں بنا دیتے ہیں اور دوسرے ہی منٹ میں اسی کو شیرِ قالین میں متسبدل کر دیتے ہیں۔

چلو، اغراضِ بحث کے لیے ہم یہ بھی مان لیتے ہیں کہ سیدنا عمرؓ نے ہی متعہ کو حرام کیا ہے۔ اس جگہ قدرۃً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے یہ کیا تو کیوں؟ اس کا جواب شیعوں کی کتاب میں یہی لکھا ہے کہ آپ معاذاللہ چونکہ نفس پرست اور طالبِ دنیا تھے، اس لیے مخالفتِ دین کی وجہ سے آپ نے یہ فعل کیا۔

ناظرین! ذرا غور فرمائیں: اگر آپ نفس پرست اور طالبِ دنیا ہوتے تو مخالفتِ دین کی وجہ سے اس کام کو ترک کرتے جس سے نفس کو تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ کہ اس صورت میں دین کی مخالفت بھی ہو جاتی اور طالبِ لذتِ نفس کی موافقت بھی بآسانی میسر آتی نہ یہ برعکس امر کہ جو اشیاء مخالفِ نفسِ متمرد ہوں ان کو تو مخالفتِ دین کی وجہ سے اختیار کیا جائے، اور جو چیزیں موافقِ نفسِ سرکش ہوں ان کو اسی دین کی مخالفت کی بنا پر چھوڑا جائے۔

اگر نفس پروری کی بنا پر مخالفتِ دین کرنی تھی تو پنجگانہ پابندیِ اوقات سے رہائی حاصل کرنے کے لیے بلا عذرِ شرعی جمع الصلوٰۃ کا حکم دیا ہوتا، یا مفروضہ آلام سے بچنے کے لیے سچ کو جھوٹ پر نثار کرنے کی ہدایت کی ہوتی۔

اگر سیدنا عمرؓ کا یہ فعل نفس پرورانہ مخالفتِ دین کی وجہ سے ہے، تو دنیا کی تاریخ میں ایک مثال تو ایسی نفس پرستانہ مخالفتِ دین کی اور بھی بتاؤ جس نے اپنے لیے عیش اندوزیوں کی کثرت کو حرام اور زحمت کشیوں کی فراوانی کو مباح قرار دیا ہو؟

اگر اس قسم کی نفس پرور مخالفتِ دین عنقا ہے، اور یقیناً ہے، تو تمہارا دعویٰ غلط اور تمہارا الزام افتراء و بہتانِ عظیم ہے۔


صفحہ 3 از 3