احادیثِ متذکرہ الصدر کو اگر تعمّقِ نظری سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حضورِ اکرمﷺ نے متعہ کو حرام تو ابتداء ہی میں کر دیا تھا۔ لیکن جب بعض غزوات، خصوصاً غزوۂ فتح مکہ میں، آپ کے بعض اصحاب نے اپنی منکوحات سے لمبی جدائی کا شکوہ کیا اور رخصتی ہو جانے کی اجازت طلب کی، تو آپ نے مصلحتاً، جس طرح حالتِ اضطرار میں مُردار و خنزیر کھانے کی شرعاً اجازت ہے، اس حرام شدہ فعل کے ارتکاب کی وقتی اجازت دے دی تھی۔
چنانچہ جتنی روایات اوپر درج ہو چکی ہیں، ان سب میں یا تو رخصت کا لفظ ہے اور یا اذن کا اور یہ اس امر کی صاف دلیل ہے کہ متعہ اس وقت حرام تھا اور بغیر رسولِ کریمﷺ کی اجازت کے اس کا ارتکاب نا جائز تھا۔ چنانچہ آپ نے متعہ کی اجازت تو دے دی تھی، مگر حرمتِ سابقہ کو منسوخ نہیں کیا تھا، بلکہ اسے قائم رکھتے ہوئے اس کے برعکس عمل کی چند روزہ اجازت عطا فرمائی تھی اور پھر اس عارضی اجازت کے امکانِ اعادہ کو ہمیشہ کے لیے قطع کرنے کی خاطر ارشاد فرمایا تھا کہ اب متعہ ہمیشہ کے لیے حرام ہے، جیسا کہ سبُرہ بن معبد جُہنیؓ کی روایت سے ثابت ہوتا ہے۔
اس قسم کی وقتی اباحت سے بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جنہیں شیعہ صاحبان مجَوِّزینِ متعہ کے زمرے میں شمار کرتے ہیں، کو شبہات لاحق ہوئے کسی نے وقتی اباحت سے عمومِ اجازت سمجھ لیا، اور بعض لوگ، جن کی فی الجملہ نظر فائر تھی، وہ تو یہ سمجھے کہ متعہ حرام ہے اور اجازتِ نبوی حالتِ اضطرار میں تھی، مگر مثلِ حالتِ خنزیر اس کی حِلّت بھی دائمی ہے۔ حالانکہ یہ قیاس صحیح نہیں، کیونکہ واقعاتِ خاصہ مفیدِ عموم نہیں ہوتے۔
علاوہ ازیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جس قسم کی ضرورتِ متعہ لاحق ہوئی، اس کی شدت اس سے ظاہر ہے کہ ان معذورین نے شدتِ غربت کے مقابلے پر اختہ ہو جانا راجح سمجھا آج کوئی مردِ میدان ہو کہ غلبہ شہوت کی تکلیف کے مقابلے میں اختہ ہو جانے پر خیار نظر آئے؟ البتہ اس سے نجات کی یہ صورت تھی کہ مضطرین کو مراجعتِ وطن کی اجازت دی جاتی مگر دیکھا یہ جاتا ہے کہ اس وقت اشاعتِ دین و حفظِ دین ایسا ضروری و مہتم بالشان امر تھا کہ ہر طرح کی تکلیفِ جانی و مالی پر بھی مراجعتِ وطن کا نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو خیال آیا اور نہ حضورِ اکرمﷺ نے اس کا حکم دیا اور اختہ بننا اول تو خود ممنوع ہے، دوسرے قطعِ نسل اور تقلیلِ اہلِ اسلام کا باعث پھر اس کی اجازت ہوتی تو کیسے ہوتی؟ اور عورتیں بجز متعہ نکاح پر راضی نہیں تھیں۔
ایسی اضطراری حالت بعد میں جب مسلمانوں کو لاحق ہوئی تو فضلِ الٰہی سے، بعدِ فتحِ مکہ، مسلمانوں اور مجاہدوں کی کثرت ہو گئی۔ کما قال اللہ سبحانہ:
اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰهِ وَالۡفَتۡحُ ۞
(سورۃ النصر: آیت 1)
وَرَاَيۡتَ النَّاسَ يَدۡخُلُوۡنَ فِىۡ دِيۡنِ اللّٰهِ اَفۡوَاجًا ۞
(سورۃ النصر: آیت 2)
اور ان شاء اللہ ہمیشہ رہے گی پھر ایسی اضطراری حالت پر اختیاری و آسانی کی حالت کو قیاس کرنا کب صحیح ہو سکتا ہے؟
اس لیے مثلِ حالتِ مُردار و خنزیر، متعہ کی حِلّت دائمی نہیں ہو سکتی یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیں حضورِ اقدسﷺ نے بقدرِ ضرورت اجازت دی ہے، فوراً ہی اس کی صراحتاً ممانعت بھی کر دی ہے، تاکہ کسی کو وقتی اجازت پر عمومِ اباحت کا شبہ نہ ہو جائے۔
شیعہ صاحبان نے احادیثِ متعہ کی تغلیط کی چند وجوہ بیان کی ہیں، جن کا سلسلہ وار یہاں ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
وجہ اوّل:تطبیقِ روایات میں تکرارِ نسخ پیش کیا جاتا ہے، مگر تکرارِ نسخ غیر معقول ہے۔
جواب:مگر معترض صاحب کو شاید یہ معلوم نہیں کہ تحویلِ قبلہ کی کیا حالت رہی ہے۔ مکہ میں کعبہ قبلہ رہا، اور ہجرت کے بعد بیت المقدس بنا۔ چند ماہ بعد پھر کعبہ ہمیشہ کے لیے قبلہ ہو گیا۔ یہ تکرارِ نسخ تحویلِ قبلہ میں اگر معقول ہے، تو متعہ میں بھی معقول ہونا چاہیے۔
وجہ ثانی:تکرارِ اجازت سے بھی خوبیِ متعہ ثابت ہے، ورنہ مذموم فعل کی کبھی مکرر اجازت نہ ہوتی۔
جواب:تکرارِ اجازت تو ہرگز بھی مؤیّدِ تحسین نہیں، خواہ متعہ من الاصل مذموم ہو یا مستحسن بصورتِ اوّل جو وجہ پہلی اجازت کی ہے وہی دوسری کی، اور بصورتِ ثانی نہ پہلی ممانعت صحیح اور نہ دوسری۔ اگر تکرارِ اباحت ہو تب استحسانِ متعہ ہو، تو مضطر کے لیے بھی تکرارِ اباحتِ خنزیر و مُردار موجبِ حُسنِ خنزیر و مُردار ہوگا؟
وجہ ثالث:مقامِ تنسیخِ متعۃ النساء کے متعلق روایات متحد اللفظ نہیں ہیں کہیں خیبر، کہیں اوطاس، کہیں مکہ اور کہیں حنین مقامِ تنسیخ بتایا گیا ہے، جس سے لازماً یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ تنسیخ کی کہانی غلط ہے۔ (برہان المتعہ)
جواب اوّل: اجمالی:
جیسا کہ اوپر واضح ہو چکا، رخصتِ متعہ بحالتِ اضطرار عمل میں آئی اور پھر بعد میں اس اباحتِ اضطراری کو فوراً منسوخ بھی کیا گیا تو اگر یہ حالتِ اضطراری مختلف مقامات پر پیدا ہوتی رہی ہو تو کون سا تعجب کا مقام ہے؟ اور اس سے کس طرح تغلیطِ تنسیخ واقع ہوتی ہے؟ اور ایک سانحہ، خاص حالت کے ماتحت، ایک دفعہ اور ایک مقام پر واقع ہونے کی بجائے پانچ دفعہ اور پانچ مختلف مقامات پر واقع ہو جائے، تو اس سے اس سانحہ کے وقوع کی تغلیط کس طرح ثابت ہوتی ہے؟
جواب دوم: تفصیلی:
1: روایت خیبر:خیبر کے متعلق سیدنا علیؓ کی دو روایات ہیں۔ ایک مسلم کی اور دوسری ترمذی کی۔ مقدم الذکر کے الفاظ یہ ہیں:
اِنَّ النَّبِیَّﷺ نَہٰی عَنْ نِکَاحِ الْمُتْعَۃِ یَوْمَ خَیْبَرَ وَعَنْ لُحُوْمِ الْحُمُرِ الْاَھْلِیَّۃ۔
اور مؤخر الذکر ان الفاظ میں مرقوم ہے:
عَلِیًّا یَقُوْلُ لِابْنِ عَبَّاسٍ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِﷺ نَہٰی عَنْ مُتْعَۃِ النِّسَاءِ وَعَنْ لُحُوْمِ الْحُمُرِ الْاَھْلِیَّۃِ عَامَ خَیْبَر۔
ان روایات میں کہیں یہ الفاظ نہیں کہ کسی دوسرے مقام میں تحریمِ متعہ نہیں ہوئی اس لیے یہ دوسرے مقامات کی تحریم کے منافی نہیں ہو سکتی۔
دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ خیبر ظرفِ حرمتِ متعہ نہیں ہے، بلکہ ظرفِ حرمتِ لحومِ حُمُرِ اھلیہ ہے۔ اور اس کی دلیل وہ روایات ہیں جن میں ظرف بعدِ لحومِ حمار واقع ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ سیدنا اسیرؓ کی روایت خالی عن الظرف تھی، جیسا کہ خود شیعوں کی معتبر ترین کتبِ احادیث تہذیب و استبصار کے باب تفسیر النکاح و باب تحلیل المتعہ میں لکھا ہے:
قَالَ حَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰهِﷺ لُحُوْمَ الْحُمُرِ الْاَھْلِیَّۃِ وَنِکَاحَ الْمُتْعَۃِ۔
اور یہ بیانِ ظرف مبنی بر غلط فہمی ہے، جس کی تائید حافظ ابن عبدالبر اور سہیلی کے کلمات ہیں۔ قال الزرقانی فی شرح الموطأ:
زَعَمَ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ اَنَّ ذِکْرَ النَّہْیِ یَوْمَ خَیْبَرَ غَلَطٌ۔
اور السہیلی: اِنَّہُ شَیْءٌ لَا یَعْرِفُہُ اَحَدٌ مِنْ اَھْلِ السِّیَرِ۔
2: روایت اوطاس:
اوطاس کے متعلق سلمہ بن الاکوعؓ کی روایت ہے کہ: رَخَّصَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِﷺ عَامَ اَوْطَاسٍ فِی الْمُتْعَۃِ ثَلَاثًا ثُمَّ نَہٰی عَنْہَا۔
اور چونکہ غزوۂ اوطاس فتحِ مکہ سے واپسی میں ہوا تھا، اس لیے یہ روایت کسی طرح بھی روایتِ فتحِ مکہ سے متعارض نہیں ہے، بلکہ دونوں صحیح اور متحد المعنیٰ ہیں ایک چیز کے دو پتے بتائے گئے ہیں اور دونوں درست ہیں۔ خواہ عامِ اوطاس کہو خواہ عامِ فتِح مکہ کیونکہ دونوں غزوے ایک ہی سفر اور ایک ہی سال میں واقع ہوئے تھے۔
3: روایت حنین:نسائی میں عبدالوہاب کے تین شاگردوں: عمرو بن علی، محمد بن بشار، محمد بن المثنیٰ سے سیدنا اسیرؓ کی خیبر والی روایت بزبانی عبدالوہاب درج ہے، جس میں اول دو شاگرد تو خیبر کو ظرفِ حرمتِ متعہ بیان کرتے ہیں، مگر تیسرے صاحب حنین کو ظرف بتاتے ہیں۔ اور یہ کتابت کی غلطی کے باعث ظہور میں آیا ہوا معلوم ہوتا ہے، کیونکہ جمہور رُوات سیدنا اسیرؓ کی روایت میں خیبر روایت کرتے ہیں۔ اور عبدالوہاب کے استاد یحییٰ بن سعید اور ان کے اکثر شاگرد بھی خیبر ہی کہتے ہیں۔ بس ابنِ مثنیٰ کی روایت روایتِ شاذہ کا حکم رکھتی ہے۔
4: روایت فتح مکہ:حرمتِ تابیّدی کا حکم فتحِ مکہ میں ہی ہوا تھا، جیسا کہ ابو ذرؓ سبرہ بن معبد جُہنیؓ و سلمہ بن الاکوعؓ کی متعدد روایاتِ مذکورہ بالا سے صاف ظاہر ہے۔
باوجود متعدد احادیثِ حرمتِ متعہ کی موجودگی کے، شیعہ صاحبان سیدنا عمر فاروقؓ ہی کو موجبِ حرمتِ متعہ گردانتے ہیں اور اس کے ثبوت میں یہ حدیث آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں:
کَانَتْ مُتْعَتَانِ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِﷺ مُتْعَۃُ الْحَجِّ وَمُتْعَۃُ النِّسَاءِ، وَاَنَا اَنْہٰی عَنْھُمَا۔
اوّلاً یہ روایت بدیں الفاظ کہیں ثابت نہیں۔ پہلے باسانیدِ صحیحہ شیعہ حضرات اس کو ثابت کریں، اس کے بعد الزام دیں البتہ تفسیر کبیر میں یہ روایت اَنَا نَہَیْ عَنْھُمَا کے الفاظ سے درج ہے، مگر یہ انہوں نے اپنی تحقیق سے درج نہیں کی، اور نہ اس کی صحت یا عدمِ صحت کے وہ ذمہ دار گردانے جا سکتے ہیں، کیونکہ انہوں نے یہ روایت ان وجوہات کے سلسلے میں من و عن نقل کی ہے جنہیں شیعیانِ متعہ علم و دیانت کی بنا پر جوازِ متعہ میں پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے آخرِ تقریر میں فرما دیا ہے:
ھٰذِہٖ جُمْلَۃُ وُجُوْہِ الْقَآئِلِیْنَ بِجَوَازِ الْمُتْعَۃِ۔
اس کے بعد بھی اگر شیعہ صاحبان یہ کہیں کہ تفسیر کبیر میں چونکہ یہ روایت درج ہے، اس لیے اہلِ سنت اس کی صحت کے ذمہ دار ہیں، تو یہ لغوِ محض ہوگا۔ اگر اغراضِ بحث کے لیے ہم یہ تسلیم بھی کر لیں کہ آپ نے لفظ احرام یا نہی استعمال کیے تھے، تو پھر یہ معنیٰ مجازی استعمال ہوئے ہیں، یعنی میں ان کے حرام یا ممنوع ہونے کی خبر دیتا ہوں۔
اگر کوئی رافضی اس مجازی معنیٰ سے انکار کرے، تو اصولِ کافی الکلینی میں جو:
یُحِلُّوْنَ مَا یَشَآءُوْنَ وَیُحَرِّمُوْنَ مَا یَشَآءُوْنَ۔
درج ہے، وہاں حلال کو حرام اپنے حقیقی معنیٰ میں استعمال کرنے سے وہی قباحت لازم آتی ہے جو سیدنا عمرؓ کی نسبت شیعہ صاحبان اپنی کتابوں میں بے دریغ لکھتے ہیں۔ پس جواب مجازی معنیٰ کا منکر مؤخر الذکر فقرے کا دے گا، وہی ہمارا جواب مقدم الذکر کا سمجھ لیا جائے۔
اگر کوئی رافضی اس جگہ پر کہنا چاہے کہ ائمہ کرام چونکہ تابعِ نبی تھے، اس لیے انہیں بھی نبی کریمﷺ کی طرح حلال و حرام کرنے کا اختیار تھا، تو بیشتر اس قسم کا دعویٰ کرنے سے قبل وہ ذرا اپنی اس معتبر حدیث کو ملاحظہ کر لے جو برہان المتعہ مؤلفہ مولانا ابو القاسم صاحب مجتہد اوّل پنجاب کے صفحہ 67 میں بدیں الفاظ درج ہے:
حَلَالُ مُحَمَّدٍ حَلَالٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَحَرَامُ مُحَمَّدٍ حَرَامٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔
سنن ابنِ ماجہ میں سیدنا عمرؓ کے خطبہ علی المنبر میں جو روایت درج ہے:
اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِﷺ اَذِنَ لَنَا فِی الْمُتْعَۃِ ثَلَاثًا ثُمَّ حَرَّمَھَا، وَاللّٰهِ لَا اَعْلَمُ اَحَدًا یَتَمَتَّعُ وَھُوَ مُحْصَنٌ اِلَّا رَجَمْتُہُ بِالْحِجَارَۃِ، اِلَّا اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِاَرْبَعَۃٍ یَّشْہَدُوْنَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِﷺ اَحَلَّھَا بَعْدَ اِذْ حَرَّمَھَا۔
ترجمہ: تحقیق رسول اللہﷺ نے فتحِ مکہ میں تین روز کی اجازت دی تھی، مگر پھر آپ نے اس کے بعد قیامت تک کے لیے حرام کر دیا اب جس کو دعوائے جواز کا ہو، وہ چار گواہوں سے ثابت کر دکھائے کہ آپ نے بعدِ اس تحریم کے پھر کبھی اجازت دی۔
مگر ایسے عادلانہ اعلان پر بھی کوئی راوی ثابت نہ کر سکا۔ سو جب کسی نے اس کو ثابت نہیں کیا تو اس میں سیدنا عمرؓ کا کیا قصور ہے؟ اگر شیعوں کے نزدیک اس کے ثابت نہ کرنے میں بھی سیدنا عمرؓ ہی کا قصور ہے، تو:
فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَةٍ مِّنۡ مِّثۡلِهٖ الخ۔(سورۃ البقرہ: آیت 23)
اس میں بھی مکذبین و منکرین کے عدمِ اقتدارِ معارضہ میں حق سبحانہ کو ہی ملزم ٹھہرانا پڑے گا، اور منکرین الزام سے بری سمجھے جائیں گے، اور ان کا سکوت ان کے دعوے کے بطلان کی دلیل نہ ہوگا۔
جب سیدنا عمر فاروقؓ نے یہ اعلان بر سرِ منبر علی رؤوس الاشہاد فرمایا تھا، تو باوجود اس امر کے کہ کل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جمع تھے، مگر کسی نے بھی اس حکم کی تردید نہیں فرمائی تھی۔ جس سے یہ اٹل نتیجہ نکلتا ہے کہ ان سب کو متعہ کے حرام ہونے کا علم تھا، ورنہ ایسی خاموشی منجر بہ کفر ہے۔
(سیوطی نے روایاتِ عمر میں تحریمِ متعہ بلفظِ مطلق لکھا ہے، نہ متعۃ النساء اس لیے یہ مبحث عنہ سے غیر متعلق ہے یقیناً اس سے مراد تمتع الحج ہے، یعنی فسخ الحج الی العمرہ، جسے جمہور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جائز نہیں سمجھا اور سیدنا عمرؓ سختی کے ساتھ منع فرماتے تھے۔ اس تابیّدی ممانعت کی سند یہ ہے:
یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ، اَفَسْخُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّۃً اَمْ لِلنَّاسِ عَامَّۃً؟ قَالَ بَلْ لَنَا۔ رواہ النسائی)
اس اعتراض کی زد سے بچنے کے لیے شیعوں نے فوراً صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خاموشی کو سیدنا عمرؓ کی ہیبت کی طرف منسوب کر دیا ہے اس جگہ چونکہ ان کو کوئی اور ذریعہ نجات نظر نہیں آیا، اس لیے مجبوراً آپ کی ہیبت ناک شجاعت کی حقیقت کا اعتراف کیا ہے حالانکہ دوسری جگہ جہاں ان کو آپ کی مفروضہ بے علمی کو ثابت کرنا منظور تھا، انہوں نے خلیفہ وقت کو تو محض ایک مٹی کا بت بنا دیا، اور ایک حقیر عورت میں بذریعہ پمپ اس قدر جرأت و اہمیت بھر دی ہے کہ وہ سرِ مجلس آپ کو عینِ خطبہ کے دوران میں روک کر یہ الفاظ کہتی ہے:
وَّاٰتَيۡتُمۡ اِحۡدٰٮهُنَّ قِنۡطَارًا فَلَا تَاۡخُذُوۡا مِنۡهُ شَيۡــئًا الخ۔(سورۃ النساء: آیت 20)
اگر یہ بات درست ہے تو کیا کل اصحابِ رسول میں اس عورت کے برابر بھی غیرتِ ایمانی نہ تھی کہ چپ چاپ بیٹھے خطبہ سنتے رہے؟ اور پھر نہ صرف اس کو محض سننے پر ہی اکتفاء کیا، بلکہ اپنی زندگی بھر بھی کسی ایک شخص کو اس کے خلاف عمل پیرا ہونے کا خیال تک نہ آیا؟ کیا سیدنا عمرؓ کی وہ سابقہ ہیبت اس موقع پر کسی نے عاریۃً مانگ لی تھی، جس نے ایک دفعہ تو کل مردوں کے منہ پر مہرِ سکوت لگا دی اور دوسری دفعہ ایک عورت کی زبان کو بھی لگام نہ دے سکی؟
رافضیوں کا قلم پیسہ کمپنی کے جادوگر کی جادو کی چھڑی ہے، جس کی مدد سے ایک منٹ میں ایک شخص کو شیرِ نیستاں بنا دیتے ہیں اور دوسرے ہی منٹ میں اسی کو شیرِ قالین میں متسبدل کر دیتے ہیں۔
چلو، اغراضِ بحث کے لیے ہم یہ بھی مان لیتے ہیں کہ سیدنا عمرؓ نے ہی متعہ کو حرام کیا ہے۔ اس جگہ قدرۃً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے یہ کیا تو کیوں؟ اس کا جواب شیعوں کی کتاب میں یہی لکھا ہے کہ آپ معاذاللہ چونکہ نفس پرست اور طالبِ دنیا تھے، اس لیے مخالفتِ دین کی وجہ سے آپ نے یہ فعل کیا۔
ناظرین! ذرا غور فرمائیں: اگر آپ نفس پرست اور طالبِ دنیا ہوتے تو مخالفتِ دین کی وجہ سے اس کام کو ترک کرتے جس سے نفس کو تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ کہ اس صورت میں دین کی مخالفت بھی ہو جاتی اور طالبِ لذتِ نفس کی موافقت بھی بآسانی میسر آتی نہ یہ برعکس امر کہ جو اشیاء مخالفِ نفسِ متمرد ہوں ان کو تو مخالفتِ دین کی وجہ سے اختیار کیا جائے، اور جو چیزیں موافقِ نفسِ سرکش ہوں ان کو اسی دین کی مخالفت کی بنا پر چھوڑا جائے۔
اگر نفس پروری کی بنا پر مخالفتِ دین کرنی تھی تو پنجگانہ پابندیِ اوقات سے رہائی حاصل کرنے کے لیے بلا عذرِ شرعی جمع الصلوٰۃ کا حکم دیا ہوتا، یا مفروضہ آلام سے بچنے کے لیے سچ کو جھوٹ پر نثار کرنے کی ہدایت کی ہوتی۔
اگر سیدنا عمرؓ کا یہ فعل نفس پرورانہ مخالفتِ دین کی وجہ سے ہے، تو دنیا کی تاریخ میں ایک مثال تو ایسی نفس پرستانہ مخالفتِ دین کی اور بھی بتاؤ جس نے اپنے لیے عیش اندوزیوں کی کثرت کو حرام اور زحمت کشیوں کی فراوانی کو مباح قرار دیا ہو؟
اگر اس قسم کی نفس پرور مخالفتِ دین عنقا ہے، اور یقیناً ہے، تو تمہارا دعویٰ غلط اور تمہارا الزام افتراء و بہتانِ عظیم ہے۔