حرمت متعہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع…

حرمت متعہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 3

دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ خیبر ظرفِ حرمتِ متعہ نہیں ہے، بلکہ ظرفِ حرمتِ لحومِ حُمُرِ اھلیہ ہے۔ اور اس کی دلیل وہ روایات ہیں جن میں ظرف بعدِ لحومِ حمار واقع ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ سیدنا اسیرؓ کی روایت خالی عن الظرف تھی، جیسا کہ خود شیعوں کی معتبر ترین کتبِ احادیث تہذیب و استبصار کے باب تفسیر النکاح و باب تحلیل المتعہ میں لکھا ہے:

قَالَ حَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰهِﷺ لُحُوْمَ الْحُمُرِ الْاَھْلِیَّۃِ وَنِکَاحَ الْمُتْعَۃِ۔ 

اور یہ بیانِ ظرف مبنی بر غلط فہمی ہے، جس کی تائید حافظ ابن عبدالبر اور سہیلی کے کلمات ہیں۔ قال الزرقانی فی شرح الموطأ:

زَعَمَ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ اَنَّ ذِکْرَ النَّہْیِ یَوْمَ خَیْبَرَ غَلَطٌ۔ 

اور السہیلی: اِنَّہُ شَیْءٌ لَا یَعْرِفُہُ اَحَدٌ مِنْ اَھْلِ السِّیَرِ۔

2: روایت اوطاس:

اوطاس کے متعلق سلمہ بن الاکوعؓ کی روایت ہے کہ: رَخَّصَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِﷺ عَامَ اَوْطَاسٍ فِی الْمُتْعَۃِ ثَلَاثًا ثُمَّ نَہٰی عَنْہَا۔ 

اور چونکہ غزوۂ اوطاس فتحِ مکہ سے واپسی میں ہوا تھا، اس لیے یہ روایت کسی طرح بھی روایتِ فتحِ مکہ سے متعارض نہیں ہے، بلکہ دونوں صحیح اور متحد المعنیٰ ہیں ایک چیز کے دو پتے بتائے گئے ہیں اور دونوں درست ہیں۔ خواہ عامِ اوطاس کہو خواہ عامِ فتِح مکہ کیونکہ دونوں غزوے ایک ہی سفر اور ایک ہی سال میں واقع ہوئے تھے۔

3: روایت حنین:نسائی میں عبدالوہاب کے تین شاگردوں: عمرو بن علی، محمد بن بشار، محمد بن المثنیٰ سے سیدنا اسیرؓ کی خیبر والی روایت بزبانی عبدالوہاب درج ہے، جس میں اول دو شاگرد تو خیبر کو ظرفِ حرمتِ متعہ بیان کرتے ہیں، مگر تیسرے صاحب حنین کو ظرف بتاتے ہیں۔ اور یہ کتابت کی غلطی کے باعث ظہور میں آیا ہوا معلوم ہوتا ہے، کیونکہ جمہور رُوات سیدنا اسیرؓ کی روایت میں خیبر روایت کرتے ہیں۔ اور عبدالوہاب کے استاد یحییٰ بن سعید اور ان کے اکثر شاگرد بھی خیبر ہی کہتے ہیں۔ بس ابنِ مثنیٰ کی روایت روایتِ شاذہ کا حکم رکھتی ہے۔

4: روایت فتح مکہ:حرمتِ تابیّدی کا حکم فتحِ مکہ میں ہی ہوا تھا، جیسا کہ ابو ذرؓ سبرہ بن معبد جُہنیؓ و سلمہ بن الاکوعؓ کی متعدد روایاتِ مذکورہ بالا سے صاف ظاہر ہے۔

باوجود متعدد احادیثِ حرمتِ متعہ کی موجودگی کے، شیعہ صاحبان سیدنا عمر فاروقؓ ہی کو موجبِ حرمتِ متعہ گردانتے ہیں اور اس کے ثبوت میں یہ حدیث آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں:

کَانَتْ مُتْعَتَانِ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِﷺ مُتْعَۃُ الْحَجِّ وَمُتْعَۃُ النِّسَاءِ، وَاَنَا اَنْہٰی عَنْھُمَا۔

اوّلاً یہ روایت بدیں الفاظ کہیں ثابت نہیں۔ پہلے باسانیدِ صحیحہ شیعہ حضرات اس کو ثابت کریں، اس کے بعد الزام دیں البتہ تفسیر کبیر میں یہ روایت اَنَا نَہَیْ عَنْھُمَا کے الفاظ سے درج ہے، مگر یہ انہوں نے اپنی تحقیق سے درج نہیں کی، اور نہ اس کی صحت یا عدمِ صحت کے وہ ذمہ دار گردانے جا سکتے ہیں، کیونکہ انہوں نے یہ روایت ان وجوہات کے سلسلے میں من و عن نقل کی ہے جنہیں شیعیانِ متعہ علم و دیانت کی بنا پر جوازِ متعہ میں پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے آخرِ تقریر میں فرما دیا ہے: 

ھٰذِہٖ جُمْلَۃُ وُجُوْہِ الْقَآئِلِیْنَ بِجَوَازِ الْمُتْعَۃِ۔

اس کے بعد بھی اگر شیعہ صاحبان یہ کہیں کہ تفسیر کبیر میں چونکہ یہ روایت درج ہے، اس لیے اہلِ سنت اس کی صحت کے ذمہ دار ہیں، تو یہ لغوِ محض ہوگا۔ اگر اغراضِ بحث کے لیے ہم یہ تسلیم بھی کر لیں کہ آپ نے لفظ احرام یا نہی استعمال کیے تھے، تو پھر یہ معنیٰ مجازی استعمال ہوئے ہیں، یعنی میں ان کے حرام یا ممنوع ہونے کی خبر دیتا ہوں۔

اگر کوئی رافضی اس مجازی معنیٰ سے انکار کرے، تو اصولِ کافی الکلینی میں جو:

یُحِلُّوْنَ مَا یَشَآءُوْنَ وَیُحَرِّمُوْنَ مَا یَشَآءُوْنَ۔ 

درج ہے، وہاں حلال کو حرام اپنے حقیقی معنیٰ میں استعمال کرنے سے وہی قباحت لازم آتی ہے جو سیدنا عمرؓ کی نسبت شیعہ صاحبان اپنی کتابوں میں بے دریغ لکھتے ہیں۔ پس جواب مجازی معنیٰ کا منکر مؤخر الذکر فقرے کا دے گا، وہی ہمارا جواب مقدم الذکر کا سمجھ لیا جائے۔

اگر کوئی رافضی اس جگہ پر کہنا چاہے کہ ائمہ کرام چونکہ تابعِ نبی تھے، اس لیے انہیں بھی نبی کریمﷺ کی طرح حلال و حرام کرنے کا اختیار تھا، تو بیشتر اس قسم کا دعویٰ کرنے سے قبل وہ ذرا اپنی اس معتبر حدیث کو ملاحظہ کر لے جو برہان المتعہ مؤلفہ مولانا ابو القاسم صاحب مجتہد اوّل پنجاب کے صفحہ 67 میں بدیں الفاظ درج ہے: 

حَلَالُ مُحَمَّدٍ حَلَالٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَحَرَامُ مُحَمَّدٍ حَرَامٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔

سنن ابنِ ماجہ میں سیدنا عمرؓ کے خطبہ علی المنبر میں جو روایت درج ہے: 

اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِﷺ اَذِنَ لَنَا فِی الْمُتْعَۃِ ثَلَاثًا ثُمَّ حَرَّمَھَا، وَاللّٰهِ لَا اَعْلَمُ اَحَدًا یَتَمَتَّعُ وَھُوَ مُحْصَنٌ اِلَّا رَجَمْتُہُ بِالْحِجَارَۃِ، اِلَّا اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِاَرْبَعَۃٍ یَّشْہَدُوْنَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِﷺ اَحَلَّھَا بَعْدَ اِذْ حَرَّمَھَا۔ 

ترجمہ: تحقیق رسول اللہﷺ نے فتحِ مکہ میں تین روز کی اجازت دی تھی، مگر پھر آپ نے اس کے بعد قیامت تک کے لیے حرام کر دیا اب جس کو دعوائے جواز کا ہو، وہ چار گواہوں سے ثابت کر دکھائے کہ آپ نے بعدِ اس تحریم کے پھر کبھی اجازت دی۔

مگر ایسے عادلانہ اعلان پر بھی کوئی راوی ثابت نہ کر سکا۔ سو جب کسی نے اس کو ثابت نہیں کیا تو اس میں سیدنا عمرؓ کا کیا قصور ہے؟ اگر شیعوں کے نزدیک اس کے ثابت نہ کرنے میں بھی سیدنا عمرؓ ہی کا قصور ہے، تو:

فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَةٍ مِّنۡ مِّثۡلِهٖ الخ۔(سورۃ البقرہ: آیت 23)

اس میں بھی مکذبین و منکرین کے عدمِ اقتدارِ معارضہ میں حق سبحانہ کو ہی ملزم ٹھہرانا پڑے گا، اور منکرین الزام سے بری سمجھے جائیں گے، اور ان کا سکوت ان کے دعوے کے بطلان کی دلیل نہ ہوگا۔

صفحہ 2 از 3