سیدنا حسینؓ کی شہادت سے ہر مسلمان کا دل غمزدہ ہے - دفاعِ…

سیدنا حسینؓ کی شہادت سے ہر مسلمان کا دل غمزدہ ہے

  مولانا اقبال رنگونی

سیدنا حسینؓ اپنے اہل و عیال سمیت میدان کرب وبلاء میں مظلوماً شہید کر دیے گئے آپؓ کی اس مظلومانہ شہادت پر ہر مسلمان دکھی اور غمزدہ ہے اور اسے ہونا بھی چاہیے۔

مفسر شہیر حافظ ابنِ کثیرؒ (774ھ) لکھتے ہیں:

فَكُلُّ مُسْلِمٍ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَحْزَنَهُ قَتْلُهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَإِنَّهُ مِنْ سَادَاتِ الْمُسْلِمِينَ، وَعُلَمَاءِ الصَّحَابَةِ وَابْنِ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتِي هِيَ أَفْضَلُ بَنَاتِهِ، وَقَدْ كَانَ عَابِدًا وَشُجَاعًا وَسَخِيًّا، وَلَكِنَّهُ لَا يُحْسِنُ مَا يَفْعَلُهُ الشِّيعَةُ مِنْ إِظْهَارِ الْجَزَعِ وَالْحُزْنِ الَّذِي لَعَلَّ أَكْثَرَهُ تَصَنُّعٌ وَرِيَاءٌ، وَقَدْ كَانَ أَبُوهُ أَفْضَلَ مِنْهُ فَقُتِلَ، وَهُمْ لَا يَتَّخِذُونَ مَقْتَلَهُ مَأْتَمًا كَيَوْمِ مَقْتَلِ الْحُسَيْنِ، فَإِنَّ أَبَاهُ قُتِلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ خَارِجٌ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ فِي السَّابِعِ عَشَرَ مِنْ رَمَضَانَ سَنَةَ أَرْبَعِينَ، وَكَذَلِكَ عُثْمَانُ كَانَ أَفْضَلَ مِنْ عَلِيٍّ عِنْدَ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ، وَقَدْ قُتِلَ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي دَارِهِ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ مِنْ شَهْرِ ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ، وَقَدْ ذُبِحَ مِنَ الْوَرِيدِ إِلَى الْوَرِيدِ، وَلَمْ يَتَّخِذِ النَّاسُ يَوْمَ قَتْلِهِ مَأْتَمًا، وَكَذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ أَفْضَلُ مِنْ عُثْمَانَ وَعَلِيٍّ، قُتِلَ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمِحْرَابِ صَلَاةَ الْفَجْرِ وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ، وَلَمْ يَتَّخِذِ النَّاسُ يَوْمَ قَتْلِهِ مَأْتَمًا،وَكَذَلِكَ الصِّدِّيقُ كَانَ أَفْضَلَ مِنْهُ وَلَمْ يَتَّخِذِ النَّاسُ يَوْمَ وَفَاتِهِ مَأْتَمًا، ورسول اللهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَقَدْ قَبَضَهُ اللهُ إِلَيْهِ كَمَا مَاتَ الْأَنْبِيَاءُ قَبْلَهُ، وَلَمْ يَتَّخِذْ أَحَدٌ يَوْمَ مَوْتِهِمْ مَأْتَمًا يَفْعَلُونَ فِيهِ مَا يَفْعَلُهُ هَؤُلَاءِ الْجُهَلَةُ مِنَ الرَّافِضَةِ يَوْمَ مَصْرَعِ الْحُسَيْنِ، وَلَا ذَكَرَ أَحَدٌ أَنَّهُ ظَهَرَ يَوْمَ مَوْتِهِمْ وَقَبْلَهُمْ شَيْءٌ مِمَّا ادَّعَاهُ هَؤُلَاءِ وَلَا يَوْمَ مَقْتَلِ الْحُسَيْنِ مِنَ الْأُمُورِ الْمُتَقَدَمةِ، مِثْلُ كَسُوفِ الشَّمْسِ وَالْحمرۃ الَّتِي تُطْلَعُ فِي السَّمَاءِ وَغَيْرِ ذَلِكَ، وَأَحْسَنُ مَا يُقَالُ عِنْدَ ذِكْرِ هَذِهِ الْمَصَائِبِ وَأَمْثَالِهَا مَا رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ عَنْ جَدِّهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ فَيَتَذَكَّرُهَا وَإِنْ تَقَادَمَ عَهْدُهَا فَيُحْدِثُ لَهَا اسْتِرْجَاعًا إِلَّا أَعْطَاهُ اللهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَ يَوْمِ أُصِيبَ مِنْهَا". رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَہ۔ (البدايۃ: جلد8 صفحہ 221)

ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ آپؓ کی شہادت پر غمزدہ ہو بلا شبہ آپؓ سادات المسلمین اور علماء صحابہ میں سے تھے اور حضورﷺ کی اس دختر نیک اختر کے شہزادے تھے جو آپﷺ کی بیٹیوں میں سب سے افضل تھیں، آپؓ عبادت گزار بہادر اور سخی تھے لیکن شیعہ جس طرح ان کی شہادت پر جزع فزع کرتے ہیں وہ درست نہیں ہے اور ان کی اکثریت تصنع و ریاء سے کرتی ہے، آپؓ کے والد گرامی آپؓ سے کہیں افضل تھے وہ بھی شہید ہوئے مگر شیعہ کبھی ان کی شہادت کا ماتم نہیں مناتے بلاشبہ آپؓ کے والد مکرم سیدنا علیؓ 17 رمضان المبارک 40ھ میں نماز فجر کو جاتے ہوئے شہید ہوئے تھے اسی طرح سیدنا عثمانؓ بھی شہید ہوئے اور اہلِ سنت و الجماعت کے ہاں آپؓ سیدنا علیؓ سے افضل ہوئے آپؓ ماہ ذی الحجہ 36ھ کے ایام تشریق میں اپنے گھر میں محصور کیے گئے اور وہیں آپؓ کو شہید کیا گیا، آپؓ کی شہ رگ کاٹی گئی مگر لوگوں نے آپؓ کے شہادت والے دن کبھی یوم ماتم نہیں بنایا اسی طرح آپؓ سے پہلے سیدنا عمر بن الخطابؓ بھی شہید ہوئے جو سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما سے افضل تھے آپؓ محراب میں نماز فجر میں قرآن پڑھتے ہوئے شہید کیے گئے مگر مسلمانوں نے کبھی ان کے لیے ماتم کا دن نہیں بنایا اسی طرح آپؓ سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیقؓ تھے جو آپؓ سے افضل تھے وہ بھی دنیا سے تشریف لے گئے مگر کبھی ان کا یوم ماتم نہیں بنایا گیا اور ان سب سے افضل حضورﷺ ہیں جو دنیا و آخرت میں سب لوگوں کے سردار ہیں آپﷺ کو اللہ نے وفات دی جیسے آپﷺ سے پہلے انبیاء علیہم السلام نے وفات پائی مگر کسی نے بھی اس دن کو یوم ماتم نہیں قرار دیا اور نہ ہی وہ کام کیے جو جاہل رافضی ماتم حسین میں کرتے ہیں اور نہ ان کی وفات کے دن اور نہ ان سے پہلے کسی نے اس طرح کبھی کیا جس طرح یہ لوگ سیدنا حسینؓ کی شہادت پر کرتے ہیں، اس طرح کی مصیبتوں کے موقع پر سب سے اچھی بات وہی ہے جو سیدنا زین العابدینؒ نے حضورﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا جس مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچی ہے اور وہ اس کے قدیم العہد ہونے کے باوجود اسے یاد کرتا ہے اور اس پر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن کی طرح (صبر کرنے کا) اجر عطا فرماتا ہے (جس دن اسے یہ مصیبت پہنچی تھی).

جناب سلمیٰ کہتی ہیں میں ام المومنین حضرت ام سلمہؓ کے پاس آئی تو آپؓ کو روتا ہوا پایا میں نے رونے کا سبب پوچھا تو کہا کہ میں نے حضورﷺ کو خواب میں دیکھا آپﷺ کے سر اور داڑھی مبارک پر گرد و غبار پڑا ہوا ہے میں نے پوچھا یا رسول اللہﷺ کیا ہوا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا کہ:

میں ابھی حسین کی شہادت پر ہو آیا ہوں شَهِدْتُ قَتْلَ الْحُسَيْنِ آنفًا

(جامع ترمذی: جلد 6 صفحہ 120، اسدالغایۃ: جلد 2 صفحہ29)

*نوٹ:* ام المومنین حضرت ام سلمہؓ کی وفات 59ھ میں ہے بعض نے کہا ہے کہ 62ھ میں ہوئی قول اول صحیح تر ہے اور سیدنا حسینؓ کی شہادت 61ھ میں پیش آیا اگر حضرت ام سلمہؓ کی وفات 59ھ میں ہوئی ہو تو پھر اس کا معنیٰ یہ ہو سکتا ہے کہ اس واقعہ کے وقوع سے پہلے ان کو خواب میں یہ منظر دکھایا ہو اور آنفاً یعنی اب کہنا باعتبار تحقیق اس کے کہ ہے اس وقت میں۔

(مظاہرحق: جلد5 صفحہ157)