شمر بن ذوالجوشن کون ہے؟ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

شمر بن ذوالجوشن کون ہے؟

  مولانا اقبال رنگونی

آپؓ کے قاتلوں میں سنان بن انس نخعی اورشمر بن ذو الجوشن کا نام بھی آتا ہے سوال یہ ہے کہ شمر کون تھا؟

جواب یہ ہے کہ بدبخت شمر سیدنا علی مرتضیٰؓ کی بیوی ام البنین بنت خرام (جو سیدنا علیؓ کی چوتھی بیوی) کا بھائی تھا، یعنی وہ سیدنا حسینؓ کا سوتیلا ماموں تھا ام البنین قبیلہ بنی کلاب میں سے تھیں ان کا نکاح حضرت عقیل کی تجویز سے ہوا تھا۔

سیدنا علیؓ نےحضرت عقیل سے کہا تھا کہ میرے نکاح کے لیے کوئی ایسی عورت تجویز کرو جس کے بھائی عرب کے بڑے بہادروں میں سے ہوں۔(عمدۃ الطالب و منتخب التواریخ صفحہ:121 ایران)

اس پرحضرت عقیل نےان کے ساتھ نکاح کی یہ تجویز دی، شمر ملعون اس قبیلہ بنی کلاب میں سے تھا انہی میں سے سیدنا عباسؓ علمدار تھے جو سیدنا حسینؓ کے بھائی اور سیدنا علیؓ کےبیٹے تھے، شمر اس رشتہ کے تعلق سے اپنے بھانجوں کے لیے ابن زیاد سے امان بھی لکھوا لایا تھا جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں بہرحال اس لحاظ سے یعنی سوتیلی والدہ حضرت ام البنین کے واسطہ سے شمر سیدنا حسینؓ کا رشتہ میں ماموں تھا، واللہ اعلم بحقيقۃ الحال(عبقات من باب الاستفسارات:  صفحہ 295)

سیدنا حسینؓ اور آپ کے گھرانے اور خاندان کے دیگر افراد کی شہادتوں میں جن بدبختوں نے انتہائی بھیانک اور ظالمانہ کردار ادا کیا تھا ان میں سے عمر بن سعد، شمر، سنان، اور عبیداللہ بن زیاد سرفہرست ہیں جنہوں نے حضورﷺ کی عزت و حرمت کا کوئی لحاظ نہ کیا اور یہ تک نہ سوچا کہ حضور اکرمﷺ سیدنا حسینؓ سے کتنا پیار کرتے تھے اور ان کی ذرا سی تکلیف پر کیسے تڑپ جاتے تھے، کاش وہ اتنا دیکھ لیتے کہ وہ جوانان جنت کے سردار اور خاتون جنت کے فرزند ارجمند ہیں، جس سر کو حضور اکرمﷺ بوسہ دیتے تھے، جس چہرے کو چومتے تھے ان ظالموں اور سفاکوں نے اس کو جسم مبارک سے علیحدہ کرنے میں کوئی حیاء نہ کی، اے اللہ جس جس کے بھی ہاتھ سیدنا حسینؓ اور خاندان نبوت کے خون میں رنگے ہوئے ہیں تو ان شہادتوں کا حساب ان سے لے۔