ناظرین کی سہولت کی خاطر ہم روایاتِ شیعہ کو دو حصوں پر تقسیم کرتے ہیں حصہ اول میں ان روایات کا ذکر کیا جائے گا جو صریحاً حرمتِ متعہ کا حکم رکھتی ہیں، اور حصہ دوم میں وہ روایات بیان کی جائیں گی جن سے حرمتِ متعہ استدلالاً اخذ کی جا سکتی ہے۔
حصہ اول: روایاتِ حرمتِ صریحہ
روایت اول:
شیعوں کی سب سے معتبر کتبِ احادیث علامہ ابو جعفر طوسی کی تہذیب و استبصار ہیں چنانچہ ان دونوں کتب کے باب تفصیل النکاح و باب تحلیل المتعہ میں بالترتیب یہ روایت حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے:
قَالَ: حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِﷺ لُحُومَ الْحُمَارِ الْأَهْلِيَّةِ وَنِكَاحَ الْمُتْعَةِ۔
ترجمہ: حضرت علیؓ نے فرمایا: رسول اللہﷺ نے گھریلو گدھوں کا گوشت اور نکاحِ متعہ حرام قرار دیا۔
یہ حدیث کتبِ ستہ اہلِ سنت میں بھی مرقوم ہے۔ اور چونکہ یہ بہترین اسناد سے مروی ہے، اس لیے تمام محدثین نے با لاتفاق اس پر حکم لگا کر متعہ کو حرام قرار دیا ہے۔
جب یہ حدیث مخالفین مخاصمین کی بہترین کتب میں سلسلہ وار جنابِ امیر تک منتہی ہوتی ہے، تو اس سے بہتر مسکت البحث سند کیا ہو سکتی ہے؟ فریقین ایک دوسرے کی روایات کو غیر معتبر اور راویوں کو غیر متدین سمجھتے ہیں، اس لیے آج تک وہ ایک سطح پر کھڑے نہیں ہو سکے لیکن جب یہ روایت ہر فریق کی اپنی اپنی معتبر کتب میں نہایت ثقہ راویوں کی سند سے مندرج ہے، تو یہ کس قدر شیعوں کی کتنی بڑی ہٹ دھرمی ہے کہ وہ اسے بلاوجہ نظر انداز کر رہے ہیں۔
روایت دوم:
الکافی بھی شیعوں کی کتبِ اربعہ میں سے ہے اور یہ وہ کتاب ہے جس پر امامِ منتظر علیہ السلام نے غار سرمن رائی میں هَذَا كَافٍی لِشِيعَتِنَا کی تصدیق ثبت فرمائی تھی۔
چنانچہ اس کتاب کی جلد 2 صفحہ 83 میں یہ روایت درج ہے:
عَنِ الْمُفَضَّلِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَقُولُ فِی الْمُتْعَةِ: دَعُوهَا، أَلا يَسْتَحِی أَحَدُكُمْ أَنْ يَرَى فِی الْمَوْضِعِ التَّوْرَاةَ فَيَجْعَلَ ذَلِكَ عَلَى صَالِحِی إِخْوَانِهِ وَأَصْحَابِهِ۔
ترجمہ: مفضل کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جعفر صادقؒ کو متعہ کے بارے میں فرماتے سنا: اس کو بلکل چھوڑ دو کیا تمہیں حیا نہیں آتی کہ بیگانہ عورت کی شرمگاہ کو دیکھ کر، اپنے بھائیوں اور دوستوں کے آگے اس کا حال بیان کرو؟
اس روایت میں نہ صرف متعہ کو حرام کیا گیا ہے، بلکہ اس بے حیائی کا نہایت مختصر مگر معنیٰ خیز الفاظ میں نقشہ کھینچا گیا ہے جو متعہ کا لازمی نتیجہ ہے۔
روایت سوم:فقہِ شیعہ کے بانی میانی جناب علامہ حلی اپنی شہرہ آفاق کتاب فِقْهِ الرِّضَا کے بابِ نکاح میں یہ روایت درج فرماتے ہیں:
اعْلَمْ يَا أَخِی أَنِّی سَأَلْتُ الْإِمَامَ عَنِ الْمُتْعَةِ فَقُلْتُ: جُعِلْتُ رُوحِی فِدَاكَ، رُوِی عَنْ جَدِّكَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ النَّبِیﷺ حَلَّلَ الْمُتْعَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، وَحَرَّمَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ وَنَهَى عَنْهَا إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ۔
ترجمہ: راوی کہتا ہے: اے برادر! پوچھا میں نے سیدنا رضا سے اے حضرت! روح میری آپ پر قربان۔ یہ فرمائیں کہ متعہ کی نسبت آپ کا کیا حکم ہے؟ کیونکہ روایت کی گئی ہے آپ کے دادا جنابِ امیر سے کہ حضرتِ رسالت پناہﷺ نے اسے فتحِ مکہ کے روز حلال کیا تھا، اور خیبر کے روز حرام کیا تھا اور اس سے منع کیا تھا۔
امیر المومنین نے فرمایا: سچ فرمایا تھا جنابِ امیر نے۔ خدا کی قسم! متعہ حرام ہے البتہ اجازت دی گئی تھی قبل میں۔
پھر امام نے فرمایا: حضرت نے متعہ حلال نہیں فرمایا تھا مگر جوانانِ عرب کے واسطے جو مسافرت میں آپ کے ساتھ تھے اور اپنی تکلیف کی شکایت کرتے تھے بس آپ نے متعہ کی اجازت صرف ایسے لوگوں کے واسطے تا کہ وہ حرام سے بچیں لیکن جس شخص نے متعہ کیا اس حالت میں کہ وہ نکاح پر قادر ہے، یا لونڈی خریدنے پر قادر ہے، یا اپنے مکان پر موجود ہے، یا کسی شہر میں مقیم ہے، تو بے شک اس نے اپنے نفس پر اس چیز کو حلال کیا جسے اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے حرام کیا ہے۔
اور فرمایا: اللہ عزوجل نے فرمایا: جس شخص نے اللہ کی حدود سے تجاوز کیا وہ ظالمین میں سے ہے۔ اے بیٹے! میرے نزدیک متعہ کی اجازت صرف وقتِ اضطرار اور ضرورت کے وقت ہے، جیسے کہ ضرورت کے وقت گوشتِ خنزیر، مردار اور خون لیکن حدِ ضرورت سے نہ گزرے تو اللہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
اہل بصیرت کے لیے:
ذرا آنکھ کھول کر اس روایت کو پڑھیں اور پھر خدا لگتی کہیں کہ اس روایت سے صحیح تریں اور معقول تریں روایت کبھی ان کی آنکھوں نے نہیں دیکھی، یا ان کے کانوں نے نہیں سنی۔
روایت کیا ہے؟ حقیقت کا نچوڑ ہے آنکھ سے دیکھو یا کان سے سنو، ایک لفظ دل میں اترتا جاتا ہے اور کسی چیز کی صداقت کی اس سے واضح تر دلیل نہیں ہو سکتی نہ صرف یہ روایت انکشافِ حقیقت ہی کرتی ہے، بلکہ متعہ کی واقعاتی و فلسفیانہ تاریخ کو کوزے میں بند کر دیتی ہے۔
روایت چہارم:تحفۃ المؤمنین اور کتاب المحاسن البرقی بھی شیعوں کی معتبر کتب میں شمار کی جاتی ہیں۔ ان کی کتاب المتعہ میں بھی جنابِ امیر سے روایت نقل کی گئی ہے:
قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّكَ رَجُلٌ تَائِهٌ، إِنَّ رَسُولَ اللہﷺ نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ۔
ترجمہ: جنابِ امیر نے ابنِ عباسؓ سے کہا: تحقیق کہ تو مرد عیاش ہے تحقیق رسول اللہﷺ نے متعہ سے منع فرما دیا ہے۔
بعینہٖ یہی روایت کل معتبر کتبِ احادیثِ اہلِ سنن میں بھی درج ہے پس جب یہ حدیث متفق علیہ فریقین ہے تو اس کی صحت سے انکار ہو ہی نہیں سکتا جنابِ امیر تو متعہ کو عیش رانی کے مترادف قرار دیتے ہیں، مگر حضرتِ شیعہ اپنے وصی و رسول اللہﷺ کی بات پر ناک منہ چڑھاتے ہیں اور ابنِ عیاش، ابنِ مسکان اور ہشام شیطان مطلق ایسے وضاعین و کذابین کے نقشِ قدم پر چل کر دعویٰ تتبع محبتِ اہلِ بیتؓ کرتے ہیں۔
ع: بہ ببیں تفاوت رہ از کجاست تا بہ کجا۔