سوال الف: ایک مولوی نے بروز جمعہ یہ فتویٰ بیان فرمایا ہے کہ شرعاً جملہ افرادِ اہلِ شیعہ و احمدی کافر ہیں اور جو شخص ان کے ساتھ خورد و نوش کرے گا یا ان کے ساتھ کسی تقریب میں شامل ہو گا، کافر متصور ہو گا۔ پھر اس کے ساتھ برتاؤ کرنے والا بھی کافر ہو گا۔ علی ھذا القیاس سلسلہ کفر جاری رہے گا، اور جملہ عورتوں کا نکاح ناجائز اور فسخ شدہ ہے۔ جو لڑکیاں اہلِ سنت والجماعت کی کسی شیعہ یا احمدی کے ساتھ بیاہی ہوئی ہیں ان کی اولاد ولد الحرام ہے اور وہ زنا کر رہی ہیں۔
ب: کیا جملہ افرادِ اہلِ شیعہ کافر ہیں؟
جواب الف: مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین بااتفاق علمائے اہلِ حق کافر و مرتد ہیں۔ ان سے کسی قسم کا اتحاد و ارتباط رکھنا اور بیاہ شادی کرنا سب حرام ہے۔ اور روافض میں یہ تفصیل ہے کہ جو فرقہ روافض میں سے قطعیات کا منکر ہے اور سبِّ شیخین رضی اللہ عنہما کرتا ہے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاتا ہے یعنی افک کا معتقد ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تکفیر کرتا ہے وہ بھی کافر مرتد ہے۔ ان سے مناکحت و مجالست حرام ہے۔ اور واضح ہو کہ روافض عموماً تبرا گو ہی ہوتے ہیں، اگرچہ بوجہ تقیہ کے جو ان کے نزدیک دینی فعل ہے اپنے آپ کو چھپاتے ہیں اور اپنے باطل عقائد مخفی رکھتے ہیں۔ لہٰذا ان کے قول و فعل کا اعتبار نہ کیا جائے بلکہ ان کے اصولِ مذہب کو دیکھا جائے۔ بس اس تمہید کے بعد آپ خود اپنے سوالات کا جواب سمجھ سکتے ہیں۔
ب: اکثر افرادِ شیعہ ایسے ہیں کہ ان کے کفر پر فتویٰ ہے اور اصولِ مذہب کے اعتبار سے ان کے کفر میں کچھ تردد نہیں۔ لہٰذا ان کے ذبیحہ میں اور ان سے رشتہ مناکحت قائم کرنے میں احتیاط کی جائے اور احتراز کیا جائے۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند مدلّل و مکمل: جلد18 صفحہ 336)