ایک عراقی کو سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کا کڑا جواب - دفاعِ اہلِ…

ایک عراقی کو سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کا کڑا جواب

  مولانا اقبال رنگونی

سیدنا حسینؓ کی شہادت نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو زندگی بھر بے چین رکھا تھا آپ کے سامنے جب بھی اس علاقے کا ذکر آتا جہاں کے لوگوں نے سیدنا حسینؓ کے ساتھ بے وفائی کی اور انہیں دھوکہ دے کر بلایا اور پھر ان کا ساتھ چھوڑ دیا، تو آپ تڑپ جاتے اور جوش میں آ کر ایسی گفتگو کرتے تھے کہ لوگ حیران ہو جاتے ایک مرتبہ ایک عراقی شخص آپ سے مسئلہ پوچھنے کے لیے آیا اور وہ حالتِ احرام میں تھا کہ اس نے سوال کیا:

 حالتِ احرام میں اگر کسی نے مکھی مار دی تو کیا حکم ہے؟ آپ نے اس سے پوچھا: تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ اس نے کہا: عراق سے ہوں۔ آپ نے فرمایا:  

انْظُرُوا إِلَى هَذَا، يَسْأَلُنِی عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ، وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ النبیﷺ وَسَمِعْتُ النبیﷺ يَقُولُ: هُمَا رَيْحَانَتَای مِنَ الدُّنْيَا۔ (صحیح بخاری: جلد 1 صفحہ 530، جلد 2 صفحہ 886)  

ذرا اس کو تو دیکھو! یہ مجھ سے مچھر مکھی کے خون کے بارے میں مسئلہ پوچھ رہا ہے، حالانکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضورِ اکرمﷺ کے بیٹے (نواسے) کو شہید کر دیا تھا جن کے بارے میں میں نے نبی اکرمﷺ سے سنا ہے کہ سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ دنیا میں میرے پھول اور بہاریں ہیں اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے دل پر سیدنا حسینؓ کی شہادت کا کتنا گہرا اثر تھا۔