فضیلۃ الشیخ ابو محمد حافظ عبد الستار الحماد کا فتویٰ روافض…

فضیلۃ الشیخ ابو محمد حافظ عبد الستار الحماد کا فتویٰ روافض کی جنازہ پڑھانے والے کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم


سوال: جب رافضی مؤذن اپنی اذان میں: عَلِیٌّ وَلِیُّ اللّٰهِ وَصِیُّ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ خَلِیْفَتُهٗ بِلَا فَصْلٍ کہے تو کیا اہلِ سنت سامعین کو یہ سن کر لَّعۡنَتَ اللّٰهِ عَلَى الۡكٰذِبِيۡنَ ۞

(سورۃ آل عمران: آیت 61) کہنا درست ہے یا نہیں؟ نیز ایک رافضی کا جنازہ اہلِ سنت امام نے پڑھایا ہے ہمارے ہاں مشہور ہے کہ اس کا نکاح ٹوٹ گیا یا اسے اپنی بیوی سے دوبارہ نکاح کرنا ہوگا کیا صحیح ہے؟

جواب: روافض دراصل یہود و مجوس کی مشترکہ سازش کی پیدا وار ہیں انہوں نے عقائد و نظریات اور عبادات و معاملات کے متعلق ایک ایسا متوازی دین قائم کر رکھا ہے جو دین اسلام کے بالکل متصادم ہے۔ اذان میں عَلِیٌّ وَلِیُّ اللّٰهِ وَصِیُّ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ خَلِیْفَتُهٗ بِلَا فَصْلٍ کلمات کا اضافہ ان کے ہاں رائج متوازی دین کی ایک مثال ہے یہ اضافہ خلافِ اسلام ہے بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بالخصوص خلیفہ راشد سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے بغض و عداوت کی ایک بد ترین مثال ہے ایمانی غیرت کا تقاضا یہی ہے کہ اس طرح کے جھوٹ پر مبنی کلمات سن کر لَّعۡنَتَ اللّٰهِ عَلَى الۡكٰذِبِيۡنَ ۞

(سورۃ آل عمران: آیت 61) کہا جائے۔

صورتِ مسئولہ میں اگر اس قسم کے جھوٹے کلمات سننے والا اکیلا ہے یا چند ایک ہم ذہن ہیں تو اس لعنت کا برملا اظہار کیا جا سکتا ہے لیکن اگر مخاطب سامنے ہے تو دل میں کہہ دیا جائے تاکہ وہ ہمارے اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق بد زبانی نہ کریں۔

اگر کسی اہلِ سنت امام نے اپنی لاعلمی کی وجہ سے رافضی کی نمازِ جنازہ پڑھائی ہے تو اسے معذور تصور کیا جائے اور اگر دانہ طور پر ایسا کام کیا ہے تو وہ بہت بڑے جرم کا مرتکب ہوا ہے افہام و تفہیم کے ذریعے اس جرم کی سنگینی کا اسے احساس دلایا جائے ہنگامہ درست نہیں اور نہ ہی ایسا کرنے سے نکاح ٹوٹتا ہے۔

اگر امام کو اس فعل پر ندامت نہ ہو بلکہ وہ اپنے فعل کے صحیح ہونے پر اصرار کرتا ہے تو ایسے امام کو امامت سے معزول کر دیا جائے کیونکہ درحقیقت وہ روافض کا حمایتی ہے۔  

(فتاویٰ اصحاب الحدیث: جلد، 1 صفحہ، 478)