سیدنا حسینؓ کے قاتل دھوکہ باز سب کوفی تھے - دفاعِ اہلِ سنت…

سیدنا حسینؓ کے قاتل دھوکہ باز سب کوفی تھے

  مولانا اقبال رنگونی

شیعہ معروف مؤرخ علی بن حسین مسعودی (346ھ) نے کھل کر لکھا ہے کہ جن لوگوں نے آپ کو دھوکہ دیا، آپ سے جنگ کی اور آپ کے قتل سے جن لوگوں نے اپنے ہاتھ سرخ کیے ہیں، بطورِ خاص سب کوفی تھے، ان میں شام کے لوگ نہ تھے:  

وَكَانَ جَمِيعُ مَنْ حَضَرَ مَقْتَلَ الْحُسَيْنِ مِنَ الْعَسَاكِرِ وَحَارَبَهُ وَتَوَلَّى قَتْلَهُ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ خَاصَّةً، لَمْ يَحْضُرْهُمْ شَامِی۔  

(مروج الذہب: جلد 3 صفحہ 17)

شیعہ کی معروف کتاب خلاصۃ المصائب کا یہ بیان بھی پیشِ نظر ہے:  

لَيْسَ فِيهِمْ شَامِی وَلَا حِجَازِی بَلْ جَمِيعُهُمْ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ۔ (خلاصۃ المصائب: صفحہ 201)  

سیدنا حسینؓ کے قاتل صرف کوفی لوگ تھے، ان میں شام اور حجاز کا کوئی شخص نہ تھا۔ شیعہ باقر مجلس (1111ھ) نے بھی یہ بات بحار الانوار میں لکھی ہے۔(بحارالانوار: جلد 10 صفحہ 231)