پروفیسر نے لکھا ہے کہ اگر وضو کے اعمال کی مذکورہ بالا ترتیب نہ رہے تو وضو باطل ہو جاتا ہے۔ (صفحہ19) اس کے برخلاف جمہور اہلِ سنت کے نزدیک وضو کے فرائض میں ترتیب کا لحاظ رکھنا سنت یا مستحب ہے۔ اگر ترتیب کا لحاظ نہ رکھا تو ثواب میں کمی ہو گی مگر وضو باطل نہیں ہوتا۔ اسی کے مطابق ایک روایت ہے:
وَقَد كَانَ الإِمَامُ عَلِی بنُ أَبِی طَالِبٍ يَقُولُ لَا أُبَالی بِأَی أَعضَاءِ الوُضُوءِ بَدَأتُ
(میزان الکبریٰ: جلد1 صفحہ128)
حضرت علیؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں کوئی پرواہ نہیں کرتا کہ وضو کے جس عضو سے شروع کروں۔