امام ابو مالک اشعری رحمۃاللہ علیہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

امام ابو مالک اشعری رحمۃاللہ علیہ

  حافظ عبدالقدوس خان قارن

پروفیسر نے یہ عنوان قائم کر کے اس کے تحت لکھا ہے کہ ابو مالکؒ نے پانی کا ایک لگن منگوایا تاکہ وضو کریں۔ پہلے آپ نے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، پھر تین مرتبہ چہرے اور بازوؤں کو دھویا، سر اور پاؤں کے اوپر کے حصے کا مسح کیا۔ (صفحہ 73) اس روایت کو پروفیسر  پاؤں کے مسح کی دلیل بنانا چاہتے ہیں۔ مگر حضرت ابو مالکؒ کے وضو کر کے دکھانے کا انداز بتاتا ہے کہ انہوں نے حاکمِ وقت کی شدت کے جواب میں ایسا وضو کیا۔ ہو سکتا ہے کہ حاکمِ وقت کسی صورت میں پاؤں پر مسح کو پسند نہ کرتا ہو۔ حالانکہ اگر وضو طہارت کی حالت میں کیا جائے تو چہرے، ہاتھوں اور پاؤں کے مسح پر اکتفا سب کے نزدیک درست ہے۔ تو حاکمِ وقت نے شدت کی تو اس شدت کے جواب میں انہوں نے ایسا وضو کیا تاکہ واضح کر دیں کہ اس حالت میں پاؤں پر مسح بھی کیا جا سکتا ہے۔ حاکمِ وقت خواہ مخواہ شدت کرتا ہے۔

پھر پروفیسر کو غور کرنا چاہیے کہ اس روایت میں ہے کہ انہوں نے تین مرتبہ چہرے اور بازوؤں کو دھویا، جبکہ پروفیسر صاحب اور ان کے طبقے کے نزدیک تو تیسری مرتبہ دھونا حرام ہے۔ جب حضرت ابو مالک رحمۃ اللہ نے بزعمِ شیعہ حرام کا ارتکاب کیا تو اس کے عمل کو وہ دلیل کیسے بنا سکتے ہیں؟