پروفیسر یہ عنوان قائم کر کے لکھتے ہیں کہ الخصائص الکبریٰ میں ہے کہ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے ایک چشمے سے وضو کیا۔ پہلے اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں کو دھویا اور پھر سر اور پاؤں کا مسح ٹخنوں تک کیا۔پس آنحضرتﷺ نے بھی اس طرح وضو کیا۔ (صفحہ 73)
اگر یہ روایت صحیح ثابت ہو جائے تو اسے اس حالت پر محمول کیا جائے گا کہ پہلے سے طاہر تھے۔ اس لیے کہ نبی کریمﷺ نے عمر بھر طہارت کے لیے جو وضو کیا اس میں پاؤں کو دھویا ہے۔ اور حضرت زید بن حارثہؓ کی روایت میں ہے:
إِنَّ جِبرِيلَ أَتَاهُ فِی أَوَّلِ مَا أُوحِی إِلَيهِ فَأَرَاهُ الوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ
(دارقطنی: جلد 1 صفحہ 41)
ابتداء میں جب حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آئے تو انہوں نے آپﷺ کو وضو کر کے اور نماز پڑھ کر دکھایا۔ اور حضور اکرمﷺ کا عمر بھر پاؤں دھونے کے ساتھ وضو کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے پاؤں دھو کر ہی وضو کیا تھا، ورنہ آپﷺ اس کے خلاف نہ کرتے۔