صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی کا فتویٰ شیعہ امام کے پیچھے نماز جنازہ پڑھنے اور پڑھنے والوں کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک میت اہلِ سنت و الجماعت کی نماز شیعہ نے پڑھائی اور اس میں دھوکے سے اہلِ سنت و الجماعت نے نماز پڑھی جو نقشبندیوں کی مسجد کے نمازی تھے اور وہ لوگ نمازِ جنازہ پڑھانے والے کو سنی جانتے تھے اور چند لوگ میت کے ہمراہ جنازہ میں تھے جو سنی تھے اور امام کے مذہب کو جانتے تھے لیکن ان لوگوں نے ظاہر نہیں کیا۔
اس صورت میں قبر پر نمازِ جنازہ مکرر ہوگی یا نہیں؟ اور جن کو معلوم تھا ان کو تجدیدِ ایمان و تجدیدِ نکاح کرنا چاہیے یا نہیں؟ اور جن لوگوں کو معلوم نہیں تھا ان کے متعلق شرع شریف کا کیا حکم ہے؟
جواب: روافض زمانہ قطعاً کفار مرتدین ہیں کیونکہ قرآنِ کریم کو ناقص مانتے ہیں اور ائمہ کرام کو انبیاء کرام علیہم السلام پر فضیلت دیتے ہیں یا ایسوں کو اپنا پیشواء یا کم از کم مسلمان جانتے ہیں اور وہ دونوں باتیں قطعاً یقیناً با لاجماع کفر ہے اور جو اس کے قائل کو کافر نہ جانے وہ بھی انہی کے مثل ہے۔
مَنْ شَكَّ فِیْ كُفْرِهٖ وَ عَذَابِهٖ فَقَدْ كَفَرَ۔
ان کے پیچھے نماز ناجائز و باطل ہے۔
كَمَا هُوَ مُصَرَّحٌ فِیْ رِسَالَةِ النَّهْیِ الْاَكِیْدِ۔
با لجملہ اس میت کی نماز نہ ہوئی کہ جب امام رافضی تھا تو امام کی نہ ہوئی اور اقتداء صحیح نہ ہوئی تو میت کو بغیر نماز کے دفن کر دیا فرض ہے کہ میت کی قبر پر نماز پڑھی جائے اور مقتدیوں میں جسے امام کا حال معلوم نہ تھا، اس پر مواخذہ نہیں اور جسے معلوم تھا اور اقتداء کی تو اسے صحیح امامت سمجھا، ایسے کو تجدیدِ ایمان و تجدیدِ نکاح چاہیے۔
(فتاویٰ امجدیہ: جلد1 صفحہ 313)
