پروفیسر بعض دیگر حضرات کے ساتھ علقمہؒ کا نام ذکر کر کے لکھتے ہیں کہ یہ حضرات بھی وضو میں بحکمِ قرآن مسحِ قدمین کے قائل تھے۔ (صفحہ69) قرأت کے لحاظ سے ضرور قائل تھے مگر عمل کے لحاظ سے نہیں۔ اس لیے کہ طہارت کے لیے کیے گئے وضو میں ان میں سے کسی سے بھی صحیح روایت کے ساتھ پاؤں پر مسح کرنا ثابت نہیں ہے۔
هَاتُوۡا بُرۡهَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ
اس کے بعد پروفیسر نے مجاہدؒ، اعمشؒ اور ضحاکؒ کا عنوان قائم کر کے لکھا ہے کہ یہ حضرات بھی أَرجُلِكُم میں لام کو کسرہ کے ساتھ پڑھتے تھے۔ (صفحہ 70 تا 72)
قرأت کے لحاظ سے پڑھتے تھے مگر پاؤں پر سر کے مسح کی طرح کوئی عمل ثابت نہیں۔