مفتی محمد خورشید مصطفیٰ مفتی ذوالفقار احمد رضوی، علامہ محمد…

مفتی محمد خورشید مصطفیٰ مفتی ذوالفقار احمد رضوی، علامہ محمد شکیل احمد تحسینی صاحبان کا فتویٰ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے گستاخ کی غمی میں شرکت کرنے کا حکم


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید سیدنا امیرِ معاویہؓ کی شان میں گستاخی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ان کو مردود سمجھتا ہوں (معاذ اللہ) اور ان کو بُرا کہنا میری نجات کا ذریعہ ہے، اور ان پر طرح طرح کے الزام لگاتا ہے۔

لہٰذا ایسا عقیدہ رکھنے والے شخص کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ ایسے شخص سے ملنا جلنا اور اس کے غم و خوشی میں شامل ہونا چاہیے یا نہیں؟ جو شخص اس سے ملے جلے اس کے لیے کیا حکم ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

جواب:  زید بدترین خبیث رافضی تبرائی ہے اس سے ملنا جلنا حرام، سخت حرام ہے اس کی بیاہ شادی غمی خوشی میں شریک ہونا حرام ہے۔ حدیث پاک میں ہے:

یَأْتِیْ قَوْمٌ لَهُمْ نَبَزٌ یُقَالُ لَهُمُ الرَّافِضَةُ لَا یَشْهَدُوْنَ جُمُعَةً وَ لَا جَمَاعَةً وَ یَطْعَنُوْنَ فِی السَّلَفِ فَلَا تُجَالِسُوْهُمْ وَ لَا تُوَاكِلُوْهُمْ وَ لَا تُشَارِبُوْهُمْ وَ اِذَا مَرِضُوْا فَلَا تَعُوْدُوْهُمْ وَ اِذَا مَاتُوْا فَلَا تَشْهَدُوْهُمْ وَ لَا تُصَلُّوْا عَلَیْهِمْ وَ لَا تُصَلُّوْا مَعَهُمْ۔

فتاویٰ رضویہ میں ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے سورۃ حدید میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی دو قسمیں فرمائیں ایک وہ کہ قبل فتح مکہ شرفِ مشرف بایمان ہوئے اور راہ خدا تعالیٰ میں مال خرچ کیا اور جہاد کیا دوسرے وہ کہ بعد میں ایمان لائے پھر فرمایا:

وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى‌ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 95)

دونوں فریق سے اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا وعدہ فرمایا اور جن سے بھلائی کا وعدہ فرمایا ان کو فرماتا ہے:

اُولٰٓئِكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ ۞

(سورۃ الانبیاء: آیت 101)

ترجمہ: وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں۔ 

اور فرماتے ہیں:

لَا يَسۡمَعُوۡنَ حَسِيۡسَهَا‌ الخ۔

(سورۃ الانبیاء: آیت 102)

ترجمہ: اس میں بھنک تک نہ سنیں گے۔ اور فرماتا ہے:

وَهُمۡ فِىۡ مَا اشۡتَهَتۡ اَنۡفُسُهُمۡ خٰلِدُوۡنَ‌ ۞

(سورۃ الانبیاء: آیت 102)

لَا يَحۡزُنُهُمُ الۡـفَزَعُ الۡاَكۡبَرُ الخ۔

(سورۃ الانبیاء: آیت 103)

ترجمہ: قیامت کے دن سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں مکدر نہ کرے گی۔ اور فرماتے ہیں:

وَتَتَلَقّٰٮهُمُ الۡمَلٰٓئِكَةُ الخ۔

(سورۃ الانبیاء: آیت 103)

 ترجمہ: اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے۔ اور فرماتے ہیں:

هٰذَا يَوۡمُكُمُ الَّذِىۡ كُنۡـتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ۞

(سورۃ الانبیاء: آیت 103)

 ترجمہ: یہ کہتے ہوئے کہ یہ تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔

حضورِ اکرمﷺ کے ہر صحابی کی یہ شان اللہ تعالیٰ بتاتا ہے تو جو کسی صحابی پر طعن کرے، پس وہ اللہ تعالیٰ کو جھٹلاتا ہے اور ان کے بعض معاملات میں جن میں اکثر حکایاتِ کاذبہ ہیں ارشادِ الٰہی کے مقابل پیش کرنا اہلِ اسلام کا کام نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس کا منہ بند فرما دیا کہ دونوں فریق صحابی سے بھلائی کا وعدہ کرنے کے ساتھ ہی ارشاد فرمایا: 

وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ ۞

(سورۃ البقرہ: آیت 234)

ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ کو خوب خبر ہے جو کچھ تم کرو گے۔ 

بایں ہمہ میں تم سب سے بھلائی کا وعدہ فرما چکا اس کے بعد کوئی بکے اپنا سر خود جہنم جائے۔

علامہ شہاب الدین خفا جی نسیم الریاض شرح شفا امام قاضی ابو عیاض میں فرماتے ہیں: 

وَ مَنْ یَطْعَنُ فِیْ مُعَاوِیَةَ فَذٰلِكَ كَلْبٌ مِّنْ كِلَابِ الْهَاوِیَةِ۔ 

ترجمہ: جو شخص حضرت امیرِ معاویہؓ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتوں میں سے ایک کتا ہے۔

جو شخص اس سے ملے جلے وہ بھی اس کی رسی میں جکڑا جائے گا۔ حدیث پاک میں ہے:

الْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ۔  

(فتاویٰ ضیاء العلوم: صفحہ 13)