سیدہ زینب بنت علیؓ کا بیان
مولانا اقبال رنگونیسیدنا علیؓ کی صاحبزادی سیدہ زینبؓ نے بھی اہلِ کوفہ کو غدار، فریبی اور مکار جیسے الفاظ سے سرعام پکارا اور کہا: اب تم ہم پر ماتم کرتے ہو، حالانکہ ہمارے قاتل تم ہو تم نے جگر گوشہِ رسولﷺ کو شہید کیا، تم نے اہلِ بیتؓ کی باپردہ عورتوں کو بے پردہ کیا ہے آپ نے کہا: اے کوفیو! اے ظالمو! اور غداری کرنے والو! تم نے جو کچھ آگے بھیجا ہے وہ بہت برا بھیجا ہے کہ اس پر اللہ سخت ناراض ہوا تم ہمیشہ عذاب میں مبتلا ہوگے تم روتے ہو؟ ہاں اللہ کی قسم! تم اب آنسو بہاتے ہو، کیونکہ تمہیں رونا ہی زیبا ہے تم خوب روؤ اور کم ہنسو تم کل قیامت کے دن آنحضرتﷺ کو کیا جواب دو گے، جب آپﷺ کہیں گے: تم آخری تھے، تم نے میرے بعد میرے گھر والوں کے ساتھ کیا ظالمانہ سلوک کیا؟ اے کوفہ! تم پر لعنت ہو! تم نے جگر گوشہِ رسولﷺ کو قتل کیا اور پردہ دار اہلِ بیتؓ کو بے پردہ کیا۔ کس قدر فرزندانِ رسولﷺ کی تم نے خونریزی کی اور حرمت کو ضائع کیا۔ (شیعہ کتاب جلاءالعیون)
تم میرے بھائی پر رو رہے ہو؟ یہ ایسی رسوائی تمہیں ملی ہے کہ تم کبھی اسے دھو نہیں سکتے اور اس ننگ و عار کو کیسے دھو گے کہ تم نے خاتم انبیاءﷺ کے فرزندِ ارجمند، معارفِ رسالت اور جوانانِ جنت کے سردار کو قتل کیا، جو میدانِ جنگ میں تمہاری پناہ گاہ اور اکیلا تمہارا ایک گروہ تھا تم اس وقت کیا کہو گے جب پیغمبرِ اکرمﷺ تم سے پوچھیں گے: کہ تم لوگوں نے کون سا کام کیا؟ میرے خاندان اور میرے بیٹوں اور عزیزوں میں کچھ اسیر ہیں، اور کچھ خون میں غلطان ہیں میں تمہارا خیر خواہ تھا کیا اس کا بدلہ یہی ہے کہ تم میرے بعد میرے گھر والوں کے ساتھ برائی کرو؟ (شیعہ کتاب احتجاج طبرسی: جلد 2 صفحہ 68، 69)
