پروفیسرنے امام شعبیؒ کا عنوان قائم کیا اور پھر لکھا کہ جنہوں نے أَرجُلِكُم کو لام کی زیر سے پڑھا ہے ان میں شعبیؒ کا نام موجود ہے اور یہ سب حضرات پاؤں کے مسح کے قائل تھے۔ (صفحہ 66) پروفیسر کو امام شعبیؒ کا یہ فرمان بھی ملحوظ رکھنا چاہیے تھا جو انہوں نے فرمایا:
نَزَلَ القُرآنُ بِالمَسحِ وَجَرَتِ السُّنَّةُ بِالغَسلِ
(در منثور: جلد 2 صفحہ 262 کنز العمال: جلد9 صفحہ257)
ترجمہ: قرآن کریم کا نزول مسح کے ساتھ ہے اور سنت دھونے کی جاری ہے۔ یعنی قرآن کریم میں قرأت کے لحاظ سے اس کو وَامۡسَحُوۡا کے تحت رکھیں گے مگر عمل کے لحاظ سے پاؤں دھونے پر عمل ہو گا۔ اس لیے کہ اس کی تفسیر عملی طور پر حضور اکرمﷺ سے پاؤں دھونے کے ساتھ ہی منقول ہے۔
باقی رہا پروفیسر صاحب کا امام شعبیؒ کا یہ فرمان کہ انہوں نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام مسحِ قدمین کا حکم لے کر نازل ہوئے۔ (صفحہ67) تو جب امام شعبیؒ نے أَرجُلِكُم کی قرأت کو ترجیح دی ہے تو ایسا کہنے کا انہیں حق ہے۔ اور جب دونوں قرأتیں درست ہیں اور خود پروفیسر نے بھی اس کا اقرار کیا ہے تو قرآن کریم کا اس بارے میں نزول دونوں قرأتوں کے ساتھ ہی ماننا پڑے گا۔