حضرت حر شہید کا بیان
مولانا اقبال رنگونیحضرت حر جو پہلے کوفی شیعوں کے ساتھ تھے، مگر جب انہوں نے سیدنا حسینؓ کے ساتھ کوفیوں کی بے وفائی اور بدعہدی دیکھی تو انہیں احساس ہوا کہ وہ غلطی پر ہیں چنانچہ انہوں نے سیدنا حسینؓ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور کوفی دھوکہ بازوں کو مخاطب کر کے کہا: اللہ تم سب پر اپنا غضب اتارے! تم نے ان کو بلا کر کیوں دھوکہ دیا؟
حضرت حر نے کہا:
يَا أَهْلَ الْكُوفَةِ لِأُمِّكُمُ الْهَبَلُ، أَدَعَوْتُمُ الْحُسَيْنَ إِلَيْكُمْ حَتَّى إِذَا أَتَاكُمْ أَسْلَمْتُمُوهُ، وَزَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ قَاتِلُو أَنْفُسِكُمْ دُونَهُ، ثُمَّ عَدَوْتُمْ عَلَيْهِ لِتَقْتُلُوهُ، وَمَنَعْتُمُوهُ التَّوَجُّهَ فِی بِلَادِ اللَّهِ الْعَرِيضَةِ الْوَسِيعَةِ الَّتِی لَا يُمْنَعُ فِيهَا الْكَلْبُ وَالْخِنْزِيرُ، وَحُلْتُمْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمَاءِ الْفُرَاتِ الْجَارِی الَّذِی يَشْرَبُ مِنْهُ الْكَلْبُ وَالْخِنْزِيرُ وَقَدْ صَرَعَهُمُ الْعَطَشُ؟ بِئْسَ مَا خَلَّفْتُمْ مُحَمَّدًا فِی ذُرِّيَّتِهِ، لَا سَقَاكُمُ اللَّهُ يَوْمَ الظَّمَأِ الْأَكْبَرِ إِنْ لَمْ تَتُوبُوا وَتَرْجِعُوا عَمَّا أَنْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِی سَاعَتِكُمْ هَذِهِ۔
(البدایہ: جلد 8 صفحہ 195)
ترجمہ: اے اہلِ کوفہ! تمہاری مائیں تمہیں کھو دیں! تم سیدنا حسینؓ کو اپنے پاس بلاتے ہو، جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو تم انہیں بے یار و مددگار کر چھوڑ دیتے ہو؟ تم نے کہا تھا کہ تم ان کی حفاظت میں اپنی جانیں لڑاؤ گے، پھر تم نے ہی انہیں قتل کرنے کے لیے ان پر حملہ کر دیا تم نے انہیں اللہ تعالیٰ کے وسیع و عریض علاقوں میں جانے سے روک دیا جن میں کتے اور خنزیر کو بھی نہیں روکا جاتا، اور تم ان کے اور دریائے فرات کے رواں پانی کے درمیان حائل ہوگئے جس سے کتے اور خنزیر بھی پانی پیتے ہیں، حالانکہ وہ سخت پیاسے ہیں تم محمدﷺ کی ذریت کے بارے میں بدترین خلف ہو اگر تم آج اور اس گھڑی کی رزیشن سے توبہ اور رجوع نہ کرو تو اللہ تعالیٰ بڑی پیاس کے دن تمہیں سیراب نہ کرے۔
(البدایہ: جلد 8 صفحہ 1069)
شیعوں کا محمد ہادی بن مرزا علی لکھنوی اسے اس طرح نقل کرتا ہے:
يَا أَهْلَ الْكُوفَةِ ثَكِلَتْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ، دَعَوْتُمْ هَذَا الْعَبْدَ الصَّالِحَ حَتَّى إِذَا أَتَاكُمْ عَدَوْتُمْ عَلَيْهِ لِتَقْتُلُوهُ، وَأَخَذْتُمْ بِكِظْمِهِ أَوْ حَطَطْتُمْ بِهِ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ لِتَمْنَعُوهُ التَّوَجُّهَ إِلَى بِلَادِ اللَّهِ، فَصَارَ الْأَسِيرَ وَمَنَعْتُمُوهُ وَأَهْلَهُ عَنْ مَاءِ الْفُرَاتِ الْجَارِی تَشْرَبُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوسُ وَتَمْرَغُ فِيهِ خَنَازِيرُ السَّوَادِ بِئْسَمَا خَلَّفْتُمْ مُحَمَّدًا ﷺ وَآلَهُ فِی ذُرِّيَّتِهِ، لَا سَقَاكُمُ اللَّهُ يَوْمَ الظَّمَأِ۔
(خلاصۃ المصائب: صفحہ 90، بحوالہ قاتلانِ حسین: صفحہ 61)
ترجمہ: اے کوفیو! تمہاری مائیں تمہارے غم میں بیٹھیں! اس نیک بندے کو تم لوگوں نے بلایا جب وہ آ گئے تو تم نے ان سے دشمنی کی اور ان کو قتل کرنے کے در پے ہوگئے ان پر جانے کا راستہ بند کر دیا گیا اور تم نے ان کو ہر طرف سے گھیر لیا کہ کسی طرف وہ نہ جا سکیں وہ مثلِ قیدی کے ہوگئے تم نے ان پر اور ان کے گھر والوں پر فرات کا پانی بند کر دیا جس سے یہود و نصاریٰ اور مجوسی تو پانی پیتے ہیں اور اس میں خنزیر اور کتے بھی لوٹتے پوٹتے ہیں تم محمدﷺ کے بہت برے ناخلف ہو کہ ان کی ذریت کے ساتھ (اس قدر) بدسلوکی کرتے ہو خدا قیامت میں تمہیں بھی سیراب نہ کرے۔
(اس کا کچھ حصہ جلاء العیون: جلد 2 صفحہ 231 میں بھی ہے)
شیعہ شیخ مفید (413ھ) لکھتا ہے کہ حضرت حر شہید نے ان سے کہا:
تم نے یہ اقرار کیا تھا کہ ان کے آگے اپنی جانیں قربان کرو گے، پھر تم اس کے (سیدنا حسینؓ) خلاف دوڑ پڑے تاکہ اس کو قتل کرو اور تم ان کو روکے ہوئے ہو اور ان کا گلا دبا رکھا ہے اور ان کو ہر طرف سے گھیر لیا ہے تاکہ ان کو اللہ کے وسیع و عریض شہروں میں جانے نہ دو الخ۔
(الارشاد: صفحہ 312 مترجم)
