پروفیسر غلام صابرنے تابعین کا وضو کا عنوان قائم کیا۔ پھر حضرت عکرمہؒ کا عنوان قائم کر کے لکھا کہ ایک ساتھی نے بتایا کہ میں نے عکرمہؒ کو وضو میں پاؤں دھوتے نہیں دیکھا بلکہ وہ پاؤں پر مسح کیا کرتے تھے۔ (صفحہ64)
پروفیسر کو دلیل پیش کرتے وقت پہلے عکرمہؒ کے ساتھ ٹھیک ساتھی کا تعین کرنا چاہیے تھا کہ وہ کون تھا۔ جب اس کا کوئی اتہ پتہ ہی نہیں تو عقل کی دنیا میں ایسی روایات کون قبول کر سکتا ہے؟
پھر صحیح سند سے روایت ہے کہ حضرت عکرمہؒ نے حضرت عباسؓ سے روایت کی کہ انہوں نے أَرجُلَكُم کو لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا اور فرمایا:
عَادَ الأَمرُ إِلَى الغَسلِ
(تفسیر طبری: جلد 6 صفحہ127)
ترجمہ: یعنی پہلے دھوئے جانے والے اعضاء کا ذکر تھا، پھر درمیان میں سر کا مسح آ گیا اور پھر دھوئے جانے کا معاملہ آ گیا۔ جب یہ واضح روایت ان سے موجود ہے تو باقی روایات کو اس کے تابع ہی رکھا جائے گا اور اس کے مطابق اس کی مناسب توجیہ کی جائے گی۔