اہل کوفہ سب شیعہ تھے، قاضی شوستری کا اعتراف - دفاعِ اہلِ…

اہل کوفہ سب شیعہ تھے، قاضی شوستری کا اعتراف

  مولانا اقبال رنگونی

نوٹ: پیشِ نظر رہے کہ جن لوگوں نے سیدنا حسینؓ کو خطوط لکھ کر آنے کی دعوت دی اور اس پر اصرار کیا، وہ سب کوفی تھے جو اپنے آپ کو شیعانِ علی کہتے تھے اور یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے سیدنا علیؓ اور سیدنا حسنؓ سے بھی بے وفائی کی تھی اہلِ کوفہ کا شیعہ ہونا خود مشہور شیعہ قاضی نور اللہ شوستری (1019ھ) کے نزدیک مسلم ہے اور وہ ساتھ لکھتے ہیں کہ اس پر کوئی دلیل دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے موصوف لکھتا ہے:  

تشيعِ اهلِ كوفہ حاجت بہ اقامتِ دليل ندارد و سنی بودنِ کوفی الاصل خلافِ اصل و محتاجِ دلیل است، اگر چہ ابو حنیفہ کوفی است۔ (مجالس المؤمنین: صفحہ 45)  

ترجمہ: اہلِ کوفہ کے شیعہ ہونے پر کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے البتہ اہلِ سنت ہونے کے لیے دلیل ضروری ہے، اگرچہ ابوحنیفہ کوفی ہی کیوں نہ ہو۔ (یعنی ان کے اہلِ سنت ہونے کے لیے دلیل کی ضرورت ہے، ورنہ تو سب اہلِ کوفہ شیعہ ہیں۔)

ایران کے سابق مذہبی سربراہ شیعہ خمینی کے ممتاز شاگرد شیعہ آیت اللہ مرتضیٰ مطہری (1979ھ) بھی اس کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکا موصوف لکھتا ہے:  

وَلَا رَيْبَ فِی أَنَّ أَهْلَ الْكُوفَةِ كَانُوا مِنْ شِيعَةِ عَلِی بْنِ أَبِی طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَأَنَّ الَّذِينَ قَتَلُوا الْإِمَامَ الْحُسَيْنَ عَلَيْهِ السَّلَامُ هُمْ شِيعَتُهُ، وَلِهَذَا كَتَبَ الْمُؤَرِّخُونَ عَنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ يَقُولُونَ: قُلُوبُهُمْ مَعَهُ وَسُيُوفُهُمْ عَلَيْهِ۔  

(الملحمۃ الحسینیہ: جلد 1 صفحہ 129)

اس میں کوئی شک نہیں کہ کوفہ والے حضرت علی علیہ السلام کے شیعوں میں سے تھے اور بے شک سیدنا حسینؓ کو جن لوگوں نے قتل کیا وہ انہی کے شیعہ تھے اس لیے ہمارے مؤرخین نے اہلِ کوفہ کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کے دل سیدنا حسینؓ کے ساتھ تھے مگر تلواریں ان کے خلاف تھیں موصوف نے اس پر اپنے جن بزرگوں کی کتابوں کے حوالے لکھے ہیں، ان میں سے شیخ مفید کی الارشاد: صفحہ 218، ابن شہر آشوب کی مناقب: جلد 4، صفحہ 195، اور علامہ اربلی کی کشف الغمہ صفحہ 32 ہیں۔