پروفیسر صاحب نے ان کی روایت تفسیر قرطبی، مستدرک اور کنز العمال سے نقل کی ہے کہ ایک آدمی کو حضورﷺ نے وضو کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: تم میں سے کسی کی نماز درست اور کامل نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ حکمِ خدا کے مطابق وضو نہ کرے۔ بس وضو میں اپنے چہرے اور دونوں بازؤں کو دھوئے اور اپنے سر کے بعض حصے اور دونوں پاؤں کا ٹخنوں تک مسح کرے۔ (صفحہ59)
اس روایت کے بارے میں قاضی شوکانیؒ لکھتے ہیں کہ اگر یہ روایت صحیح ثابت ہو بھی جائے تو ان صحیح روایات کے مقابلے میں اس کا اعتبار نہیں ہو سکتا جو وضو میں پاؤں دھونے سے متعلق پہلے بیان ہو چکی ہیں۔ اس لیے اس روایت کے الفاظ کی مناسب تاویل کی جائے گی۔
(نیل الاوطار: جلد 1 صفحہ186)
اور پھر حضرت رفاعہ بن رافعؓ سے ایک روایت میں یہ الفاظ بھی موجود ہیں:
وَ يَمسَحُ بِرَأسِهِ وَ يَغسِلُ رِجلَيهِ
(احکام القرآن للجصاص: جلد 2 صفحہ336)
ترجمہ: اور اپنے سر کا مسح کریں اور پاؤں دھوئے۔