شیعہ کی نماز جنازہ پڑھنے اور پڑھانے والے کا حکم - فتاویٰ…

شیعہ کی نماز جنازہ پڑھنے اور پڑھانے والے کا حکم


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: ایک امام سنی بریلوی نے مسئلہ جاننے کے باوجود شیعہ مذہب کے آدمی کا جنازہ پڑھایا قرآن و سنت کی روشنی میں اس کے بارے میں مسئلہ بیان فرمائیں۔

جواب: پڑھنے اور پڑھانے والے سب سنی گنہگار ہوئے ان کے لیے اعلانیہ توبہ کرنا لازم ہے اور امام جب تک توبہ نہ کرے اس کی امامت مکروہ ہے۔

قرآن کریم میں ایسے لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا: 

وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓى اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمۡ عَلٰى قَبۡرِهٖ الخ۔

(سورۃ التوبہ: آیت 84) 

ترجمہ: اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا۔

حرام قطعی کا ایک بار ارتکاب فسق ہے اور فاسق کی امامت مکروہ ہے۔  

(فتاویٰ بھکھی شریف: جلد 1 صفحہ 236)