حضرت حافظ القرآن و الحدیث، مفتی اعظم پاکستان، حضرت پیر سید…

حضرت حافظ القرآن و الحدیث، مفتی اعظم پاکستان، حضرت پیر سید محمد جلال الدین مشہدی کا فتویٰ(حضرت اعلیٰ درگاہ مقدسہ جلالیہ بھکھی شریف)


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: ایک گاؤں میں آدھی آبادی سنیوں کی ہے اور آدھی آبادی شیعوں کی جب کوئی آدمی مر جائے تو اس پر سنی علیحدہ نمازِ جنازہ پڑھتے ہیں اور شیعہ علیحدہ نمازِ جنازہ پڑھتے ہیں، میت چاہے سنیوں کی ہو یا شیعوں کی قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔

جواب: جو رافضی ائمہ کرام و اہلِ بیتؓ کو انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل مانتے ہوں، سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی صحابیت کے منکر ہوں، ایسے لوگوں کی نمازِ جنازہ اہلِ سنت کے لوگوں کے لیے ہرگز جائز نہیں، خواہ امام شیعہ ہو یا سنی اور نہ ہی انہیں کسی سنی کے جنازے میں شریک ہونا چاہیے، اور نہ انہیں علیحدہ سنی مسلمان کا جنازہ پڑھنے کی اجازت دینی چاہیے۔

قرآن کریم میں ایسے لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:

وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓى اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمۡ عَلٰى قَبۡرِهٖ الخ۔

 (سورۃ التوبہ: آیت 84)

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: 

لَا تُصَلُّوْا مَعَهُمْ وَ لَا تُصَلُّوْا عَلَیْهِمْ۔  

ترجمہ: نہ ان کے ساتھ جنازہ میں شریک ہو اور نہ ہی ان کی نماز جنازہ پڑھو۔

نیز شیعہ کی معتبر کتاب تحفۃ سنیہ کے صفحہ نمبر 354 میں ہے کہ: جب کسی اللہ کے دشمن کی نمازِ جنازہ پڑھے تو کہے: اے اللہ! ہم اس کے بارے میں جانتے ہیں کہ یہ تیرا اور تیرے رسول کا دشمن ہے اے اللہ! اس کی قبر کو آگ سے بھر دے اور اس کے پیٹ میں آگ بھڑکا دے اور اس کو جلدی جہنم رسید کر بے شک یہ تیرے دشمنوں کا دوست اور تیرے دوستوں کا دشمن تھا اور تیرے نبی کی اہلِ بیتؓ سے بغض رکھتا تھا۔ اے اللہ! اس کی قبر کو تنگ کر دے۔

لہٰذا ایسے آدمی کی نمازِ جنازہ نہ پڑھو اور نہ اس کو اپنے مردوں کے لیے ایسی بد دعا کرنے دو۔  

(فتاویٰ بھکھی شریف: جلد1 صفحہ223)