پروفیسر نے لکھا کہ شوکانیؒ نے طبرانی کی معجم کبیر کے حوالے سے لکھا ہے کہ عباد بن تمیم انصاری اپنے والد حضرت تمیم بن زید انصاریؓ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو وضو میں پاؤں کا مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ (صفحہ55)
ہماری پروفیسر سے گزارش ہے کہ قاضی شوکانیؒ نے صرف یہ روایت ہی نقل نہیں کی، بلکہ اس روایت کا ضعیف ہونا ابو عمرؒ سے نقل کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو نیل الاوطار: جلد1 صفحہ 186)
پروفیسرنے ایک اور روایت کنز العمال کے حوالہ سے نقل کی ہے مگر اس پر خود ہی جرح کر دی کہ ہمارے نزدیک اس میں لفظ لِحیہ یعنی داڑھی کا اضافہ ہے۔ (صفحہ55)
پھر پروفیسر نے مسند احمد سے ایک روایت نقل کی ہے کہ عباد بن تمیم المازنی کی روایت میں ہے کہ میرے والد تمیمؓ فرماتے ہیں: میں نے حضورﷺ کو وضو کرتے دیکھا تو يَمسَحُ المَاءَ عَلَى رِجلَيهِ پانی سے اپنے پاؤں کا مسح کر رہے تھے۔ (صفحہ56) اس روایت میں ایک احتمال تو یہ ہے کہ ہو سکتا ہے یہ وضو طہارت کی حالت میں ہو۔ اور طہارت کی حالت میں کیے جانے والے وضو میں چہرے اور پاؤں کے مسح میں کسی کو اختلاف نہیں، جیسا کہ پہلے باحوالہ گزر چکا ہے۔ اور اس روایت میں یہ احتمال بھی ہے کہ یمسح کا معنیٰ بہانا ہو اسی لیے تو فرمایا يَمسَحُ المَاءَ پانی کا مسح کر رہے تھے۔ اور اگر مسح مراد ہوتا تو یوں ہوتا: يَمسَحُ بِيَدِهِ عَلَى رِجلَيهِ جب اس میں احتمالات ہیں تو پروفیسراس کو اپنے حق میں دلیل نہیں بنا سکتے۔