فقیہ الہند، حضرت مولانا محمد مسعود شاہ محدث دہلوی کا فتویٰ شیعہ کے جنازے پر جانے کا حکم
سوال:رافضہ خفصہ شیعہ تبرائی سے باہم مواکلت و مشاربت کرنی اور ان سے خلط ملط رکھنا اہلِ سنت کو اور ان کا ممد و معاون ہونا کسی کام میں اور ان سے رشتہ کرنا درست ہے یا نہیں؟ اور اہلِ سنت کو ان لوگوں سے معاملہ کرنا چاہیے یا نہیں؟
جواب: اہلِ شیعہ تبرائی سے مشاربت و مواکلت کرنی اور خلط ملط ان سے کرنا اہلِ سنت و الجماعت کو جائز نہیں ہے، کیونکہ شیعہ بسبب حضرت عائشہ صدیقہؓ کے مکذبِ آیاتِ قرآن ہے جو کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شان براءت میں نازل ہوئی ہیں اور یہ امر موجبِ تکفیر اور استہزاء فی الدین اور طعن فی الرسول ہے ایسے شخصوں کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کے ساتھ مل کے مجلس نہ کرو اور جس مجلس میں یہ اقوال ہوں اس مجلس سے اُٹھ جانا لازم ہے۔
وَاِذَا رَاَيۡتَ الَّذِيۡنَ يَخُوۡضُوۡنَ فِىۡۤ اٰيٰتِنَا فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ حَتّٰى يَخُوۡضُوۡا فِىۡ حَدِيۡثٍ غَيۡرِهٖ وَاِمَّا يُنۡسِيَنَّكَ الشَّيۡطٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّكۡرٰى مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ۞
(سورۃ الانعام: آیت 68)
ان اولئک المکذبین ان ضحوا الی کفرھم وتکذیبھم الاستھزاء بالدین والطعن فی الرسول فانہ یجب الاحتراز عن مقارنتھم وترک مجالسھم۔
ونقل الواحدی ان المشرکین کانوا اذا جالسوا المؤمنین وقعوا فی رسول اللہﷺ والقرآن فشتموا و استھزءوا فامرھم لایقعدوا معھم حتیٰ یخوضوا فی حدیث غیرہ ولفظ الخوض فی اللغۃ عبارۃ عن المفاوضۃ علی وجہ المبعث واللعب انتھی ما فی التفسیر الکبیر۔
اور دوسری آیت میں بھی یہی حکم ہے:
وَقَدۡ نَزَّلَ عَلَيۡكُمۡ فِى الۡـكِتٰبِ اَنۡ اِذَا سَمِعۡتُمۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ يُكۡفَرُ بِهَا وَيُسۡتَهۡزَاُبِهَا فَلَا تَقۡعُدُوۡا مَعَهُمۡ حَتّٰى يَخُوۡضُوۡا فِىۡ حَدِيۡثٍ غَيۡرِهٖۤ اِنَّكُمۡ اِذًا مِّثۡلُهُمۡ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 140)
پس ثابت ہوا کہ شیعہ کی محافل محرم میں اہلِ سنت و الجماعت کو شامل ہونا موجبِ گناہ کبیرہ کا ہے، کیونکہ ان کی مجالس میں سبِ شیخینؓ اور قذفِ حضرت عائشہ صدیقہؓ ہوتا ہے اور فرقہ ظالمین میں بدعتی اور فاسق اور کافر بھی داخل ہیں، ان سب کے ساتھ مواکلت اور مشاربت اور جلوس منع ہے۔
اہلِ تشیع بدعتی تو ظاہر ہیں اور فاسق اور کافر بسبب سبِ شیخینؓ اور قذف عائشہ صدیقہؓ ہے پس واجب ہوا اہلِ سنت والجماعت کو کہ ان کی مجالس اور ہم صحبت سے پرہیز کریں۔
تفسیر احمدی میں ہے: اِنَّ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ یَعُمُّ الْمُبْتَدِعَ وَ الْفَاسِقَ وَ الْكَافِرَ، وَ الْقُعُوْدُ مَعَ كُلِّهِمْ مُمْتَنِعٌ۔
چنانچہ فقہائے کرام نے جس دعوت میں لہو و لعب ہو اس میں شامل ہونے سے منع کیا ہے۔ جب کہ اہلِ شیعہ تبرائی فاسق اور کافر ثابت ہوئے، اس لیے عورت سنیہ کا نکاح مرد شیعہ سے نا جائز ہے۔
اور دوسری وجہ یہ ہے کہ شیعہ بسبب انکارِ صحابیت اور سب سیدنا صدیقِ اکبرؓ اور قذف عائشہ صدیقہؓ کافر ہیں۔ جیسا کہ شامی میں ہے:
الرَّافِضِیُّ اِنْ كَانَ مِمَّنْ یَعْتَقِدُ الْاُلُوْهِیَّةَ فِیْ عَلِیٍّ اَوْ اَنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْهِ السَّلَامُ غَلِطَ فِی الْوَحْیِ اَوْ كَانَ مُنْكِرًا صُحْبَةَ الصِّدِّیْقِ اَوْ یَقْذِفُ السَّیِّدَةَ الصِّدِّیْقَةَ فَهُوَ كَافِرٌ لِمُخَالَفَتِهِ الْقَوَاطِعَ الْمَعْلُوْمَةَ مِنَ الدِّیْنِ بِالضَّرُوْرَةِ۔
یعنی جو رافضی حضرت علی المرتضیٰؓ کو خدا جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام وحی غلطی سے حضورِ اکرمﷺ کے پاس لائے تھے ورنہ مستحق حضرت علیؓ تھے، اور انکار صحابیت سیدنا صدیقِ اکبرؓ کا کرتے ہیں اور تہمت حضرت عائشہ صدیقہؓ کو لگاتے ہیں، یہ سب کافر ہیں جب کہ کافر ہوئے پس عورت سنیہ مومنہ کا نکاح مرد شیعہ کے ساتھ ناجائز ہوا۔
اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس قسم کے مبتدعین کے سلام کا جواب نہ دیا:
عَنْ نَافِعٍ اَنَّ رَجُلًا اَتَى ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ اِنَّ فُلَانًا یُقْرِء علیک السَّلَامَ فَقَالَ اِنَّهُ بَلَغَنِیْ اَنَّهُ قَدْ اَحْدَثَ فَاِنْ كَانَ قَدْ اَحْدَثَ فَلَا تَقْرَاْ عَلَیْهِ مِنِّی السَّلَامَ۔
یعنی جو شخص دین میں نئی چیز پیدا کرے اس کو جواب سلام بھی دینا نہ چاہیے کجا کے مشارکت کسی امر میں
فانہ مُبْتَدِع لَا یَسْتَحِقُّ جَوَابَ السَّلَامِ وَ لَوْ كَانَ مِنْ اَهْلِ الْاِسْلَامِ۔
اور شیعہ تبرائی اور قاذفِ مثل قدریہ کے ہیں کیونکہ قدریہ منکر قدر ہیں اور مکذبِ نصوص واردہ بقدر ہیں، اور شیعہ مکذب نصوصِ براءت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا و منکر صحبیت سیدنا صدیقِ اکبرؓ پس تکذیبِ نصوص مساوی ہیں اور قدریہ کی شان میں احادیث وارد ہوئی ہیں: ان سے نہ ملو اور بیمار پرسی ان کی نہ کرو اور ان کے جنازہ پر نہ جاؤ اسی طرح اہلِ شیعہ سے معاملہ کرنا چاہیے کہ ان کے جنازہ پر نہ جانا چاہیے اور ان سے خلط ملط نہ رکھنا چاہیے اور شادی آپس میں نہ کرنا چاہیے اور نہ ان کی مجالس میں شریک ہونا چاہیے۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِﷺ الْقَدَرِیَّةُ مَجُوْسُ هٰذِهِ الْاُمَّةِ اِنْ مَرِضُوْا فَلَا تَعُوْدُوْهُمْ وَ اِنْ مَاتُوْا فَلَا تَشْهَدُوْهُمْ۔
عَنْ عُمَرَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِﷺ لَا تُجَالِسُوْا اَهْلَ الْقَدَرِ وَ لَا تُفَاتِحُوْهُمْ۔
(فتاویٰ مسعودی: صفحہ 432)
