پروفیسر نے حضرت ابنِ عباسؓ، حضرت تمیم بن زیدؓ، حضرت عباد بن تمیمؓ اور حضرت عبداللہ بن زیدؓ کی توثیق نقل کی ہے۔ ہم پروفیسر کی معلومات کے لیے عرض کرتے ہیں کہ اہلِ سنت الصحابۃ كُلُّهُم عُدُول کا نظریہ رکھتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سارے کے سارے عادل ہیں۔
اور اہلِ سنت تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دین اخلاق یا جسم کسی بھی لحاظ سے طعن کرنے والے کو لعنتی سمجھتے ہیں۔ اس لیے نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:
مَن سَبَّهُم فَعَلَيهِ لَعنَةُ اللّٰهِ وَالمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجمَعِينَ
(مستدرک الحاکم: جلد3 صفحہ632)
ترجمہ: جو ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا کہے اس پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں اور سب انسانوں کی لعنت ہو۔ اور اہلِ سنت کے نزدیک حضور اکرمﷺ کے ساتھ کے لیے صحابہ کرامؓ کا انتخاب من جانب اللہ ہے۔ اس لیے حضرات محدثین کرام رحمہم اللہ جرح و تعدیل کے قانون سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بالا سمجھتے ہیں۔