مدینہ منورہ کی ایک خاتون کا قاتلوں سے سوال
مولانا اقبال رنگونیسیدنا حسینؓ کی شہادت کے بعد ان کے قافلے میں سے جو لوگ بچ گئے تھے جب وہ واپس مدینہ پہنچے تو بنی عبدالمطلب کی ایک خاتون صدمے سے بے حال ہو گئی اور روتے ہوئے اس نے چند اشعار پڑھے:
مَاذَا تَقُولُونَ إِنْ قَالَ النَّبِی لَكُمْ
مَاذَا فَعَلْتُمْ وَأَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ
بِعِتْرَتِی وَبِأَهْلِی بَعْدَ مَفْتَقِدِی
مِنْهُمْ أَسَارَى وَمِنْهُمْ ضُرِّجُوا بِدَمِ
مَا كَانَ هَذَا جَزَائِی إِذْ نَصَحْتُ لَكُمْ
أَنْ تَخْلُفُونِی بِسُوءٍ فِی ذَوِی رَحِمِ
ترجمہ: یعنی تم کیا جواب دو گے اگر حضورِ اکرمﷺ تم سے پوچھیں کہ اے میری آخری امت! میرے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد تم نے میرے اہل کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا تھا؟ ان میں سے تم نے بعضوں کو قید کیا اور بعضوں کا خون بہایا۔ میں نے تم کو جو نصیحت دی تھی اس کا بدلہ یہ تو نہ تھا کہ تم میرے بعد میرے رشتے داروں کے ساتھ برا سلوک کرو۔
(البدایہ والنہایہ: جلد 8 صفحہ 198)
