خوجہ مذہب والوں کو اپنے قبرستان میں دفن کرنا اور ان کی تجہیز و تکفین و نماز جنازہ میں شریک ہونا
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ میں کہ: خوجہ مذہب والوں کو اپنی مسجد، اپنی جماعت کے ساتھ شریک کرنا، نیز انہیں اپنے قبرستان میں دفن کرنا، ان کی تجہیز و تکفین و نمازِ جنازہ میں شریک ہونا شافعی کو جائز ہے یا نہیں؟
جواب: فرقہ اسماعیلیہ کی تمام شاخوں پر علی الاطلاق کفر و ارتداد کا فتویٰ ہے حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃاللہ تحفہ اثناء عشریہ میں تحریر فرماتے ہیں:
وحکم الارتداد بر شیعہ بلا اختلاف منطبق است و برغلاة و کیسانیہ و اسماعیلیہ۔
اس لیے ان کے ساتھ تمام شرعی معاملات جن کا ذکر سوال میں کیا گیا، منع ہیں۔
الاشباہ میں ہے: اذا مات لم یدخل مقابر المسلمین ولا اھل ملة انما یلقی فی الحفیر کالکلب۔
اور جب ان کی نماز نہیں تو وہ مسلمانوں کی نماز میں کھڑے ہوں گے تو قطعِ صف لازم آئے گا، جس کی سخت ممانعت ہے۔
حدیثِ شریف میں ہے:
من قطع صفا قطعه اللہ ومن وصل صفا وصله اللہ۔
(فتاویٰ بحر العلوم: جلد، 4 صفحہ، 217)
