قافلہ حسینی کے مدینہ پہنچنے پر سیدہ فاطمہ بنت علیؓ نے کیا کہا
مولانا اقبال رنگونیجب یہ قافلہ خیریت کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچ گیا تو سیدہ فاطمہ بنتِ علیؓ نے اپنی بہن سیدہ زینبؓ سے کہا: اے میری پیاری بہن! یہ شامی مرد جو ہمیں لے کر آیا ہے، اس نے ہمارے ساتھ سفر میں بہت مہربانی کی ہے اسے کچھ انعام دیجیے سیدہ زینبؓ نے کہا: واللہ میرے پاس اپنے زیور کے سوا کچھ بھی نہیں ہے جو میں اسے انعام میں دوں سیدہ فاطمہؓ نے کہا اچھا ہم دونوں اپنا زیور اسے انعام میں دیں گے۔ غرض دونوں سیدانیوں نے اپنے کنگن اور بازو بند اتار کر اس کے پاس بھیجے اور معذرت کے ساتھ یہ کہلا بھیجا کہ راستے میں جس خوبی سے تم ہم سے پیش آئے، یہ اس کا صلہ ہے اس نے کہا میں نے جو کچھ خدمت کی ہے، اگر دنیاوی لالچ میں کی ہوتی تو آپ کے اس زیور سے بلکہ اس سے بھی کم میں خوش ہو جاتا جو کچھ کیا ہے، لیکن واللہ! جو کچھ میں نے کیا ہے وہ خدا کی خوشنودی اور رسول اللہﷺ سے آپ کی جو قرابت ہے اس کو سامنے رکھ کر کیا ہے، (اس لیے میں یہ نہیں لے سکتا۔)
(تاریخِ طبری: جلد 4 صفحہ 236، البدایہ: صفحہ 213)
ہم نے اوپر یزید کے متعلق شیعہ محدثین و مؤرخین کے حوالے سے جو بات نقل کی ہے، اس سے شیعہ علماء اور ان کے ذاکر و ملا کے اس پروپیگنڈے میں کیا دم رہ جاتا ہے کہ یزید کے حکم پر خاندانِ نبوتﷺ کو کوفہ میں گھسیٹا گیا تھا، ان کے سروں سے چادریں کھینچ لی گئیں تھیں، ان سب کے ہاتھوں کو رسیوں سے باندھا گیا تھا اور دمشق کی گلی گلی پھیراتے ہوئے یزید کے دربار میں لایا گیا تھا؟ اگر وہ سب کچھ صحیح ہے جو شیعہ علماء نے یزید کے بارے میں لکھا ہے، تو پھر گلی گلی کی یہ رام کہانی، افسانہ اور رونے رلانے کا بہانہ تو ہو سکتا ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
