پروفیسر غلام صابرنے اصحابِ رسول ﷺ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا وضو کا عنوان قائم کیا اور پھر حمرانؒ کی سند سے حضرت عثمان بن عفانؓ کی مسند احمد کے حوالے سے روایت نقل کی، جس میں ہے: پھر سر اور پاؤں کے اوپر مسح کیا۔ (صفحہ 50)
جناب پروفیسر نے جو روایت ذکر کی ہے اس کی سند میں قتادہؒ ہیں، جو عَن سے روایت کرتے ہیں۔ اور قتادہؒ مدلّس ہیں۔ جب وہ عَن سے روایت کریں اور روایت صحیحین کی نہ ہو تو ان کی روایت معتبر نہیں سمجھی جاتی۔ جیسا کہ علامہ عینیؒ فرماتے ہیں:
إِنَّ قَتَادَةَ مُدَلِّسٌ لَا يُحتَجُّ بِعَنعَنَتِهِ
(عمدۃ القاری: جلد1 صفحہ261)
ترجمہ: بے شک قتادہؒ مدلّس ہیں، ان کی عَن سے روایت قابلِ احتجاج نہیں۔ اس کے برخلاف حمرانؒ سے ہی حضرت عثمانؓ کے وضو کی جو روایت بخاری میں ہے اس میں ہے:
ثُمَّ غَسَلَ رِجلَيهِ ثَلاثَ مِرَارٍ إِلَى الكَعبَينِ
(بخاری: جلد1 صفحہ28)
ترجمہ: پھر حضرت عثمانؓ نے اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک تین بار دھوئے۔ اور پھر حضرت عثمانؓ کی روایت میں پاؤں دھونے کا ہی ذکر ملتا ہے۔ ملاحظہ ہو:
(مسند احمد: جلد1 صفحہ61
مسند احمد: جلد1 صفحہ 66
مسند احمد: جلد1 صفحہ68
کنز العمال: جلد9 صفحہ251)
جب حضرت عثمانؓ سے صحیح روایات میں پاؤں دھونے کا ذکر ہے تو کمزور روایت کو ان کے مقابلے میں کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ اور مسند احمد: جلد1 صفحہ67 کا جو حوالہ پروفیسر نے دیا ہے اس میں وَرِجلَيهِ ثَلاثًا ثَلاثًا ہے، جو اس بات کا قرینہ ہے کہ پاؤں کو دھویا گیا۔ اس لیے کہ مسح تین تین مرتبہ نہیں کیا جا سکتا۔