قافلہِ حسینی کی مدینہ منورہ روانگی - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

قافلہِ حسینی کی مدینہ منورہ روانگی

  مولانا اقبال رنگونی

مؤرخین لکھتے ہیں کہ جب تک یہ قافلہ شام میں رہا، یزید کی حفاظت میں رہا اور یزید نے ان کا خیال بھی رکھا اور ان کے لیے سہولتیں بھی مہیا کیں تھیں اور جب یہ قافلہ ملکِ شام سے مدینہ کی طرف روانہ ہونے لگا تو یزید نے سیدنا حسینؓ کے بیٹے سیدنا زین العابدینؒ سے کہا: اللہ ابنِ سمیہ کو رسوا کرے۔ خدا کی قسم اگر میں آپ کے والد کے پاس ہوتا تو وہ جس بات کا مجھ سے مطالبہ کرتا:  

أَمَا وَاللَّهِ لَوْ أَنِّی صَاحِبُ أَبِيكَ مَا سَأَلَنِی خَصْلَةً إِلَّا أَعْطَيْتُهُ إِيَّاهَا۔  

میں اسے دیتا اور میں جہاں تک ہو سکتا ان کو موت سے دور رکھتا، خواہ اس میں میرے بعض بچے ہلاک ہو جاتے، لیکن جو اللہ کا فیصلہ ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔  

ثُمَّ جَهَّزَهُ وَأَعْطَاهُ مَالًا كَثِيرًا وَكَسَاهُمْ وَأَوْصَى بِهِمْ ذَلِكَ الرَّسُولَ، وَقَالَ لَہ: كَاتِبْنِي بِكُلِّ حَاجَةٍ تَكُونُ لَكَ۔  

(البدایہ: جلد 8 صفحہ 214)

پھر یزید نے آپ کے سفر کی تیاری کا سامان مہیا کیا اور بہت سا مال اور کپڑے دیے اور ان کے بارے میں قاصد کو تاکید کی اور کہا کہ جس چیز کی ضرورت پڑے مجھے بتلانا۔ یزید نے جس کے ساتھ اس قافلہ کو بھیجا تھا، تو چونکہ اس میں خواتین بھی تھیں، اس لیے وہ قاصد ان سے تھوڑی دور رہ کر چلتا تھا یہاں تک کہ وہ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔  

(البدایہ: جلد 8 صفحہ 1095)