سیدہ فاطمہ بنتِ حسینؓ نے کیا کہا - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدہ فاطمہ بنتِ حسینؓ نے کیا کہا

  مولانا اقبال رنگونی

مؤرخ طبری لکھتا ہے کہ جب اہلِ بیتؓ کا یہ قافلہ یزید کے گھر پہنچا تو سیدہ فاطمہ بنتِ حسینؓ جو حضرت سکینہ سے عمر میں بڑی تھیں، کہنے لگیں:

اے یزید! رسول اللہﷺ کی بیٹیاں اور قید میں؟ یزید نے کہا: اے بھتیجی! جتنا تمہارا مال لوٹا گیا ہے میں اس سے بڑھ کر دوں گا یزید نے کسی کو بھیج کر اہلِ حرم سے پوچھا کہ ان کی کیا کیا چیزیں لوٹ لی گئیں اور جس بی بی نے جو کچھ بتایا، اس کا دوگنا پھر یزید نے دیا۔ بی بی سکینہ کہا کرتی تھیں کہ میں نے کسی ناشکرے کو یزید سے بڑھ کر اچھا نہیں دیکھا اس کے بعد یزید نے ان لوگوں کی روانگی کا سامان کیا اور سیدنا علی بن حسینؓ کو کچھ مال دے کر مدینہ روانہ کیا۔ (تاریخِ طبری: جلد 4 صفحہ 1265، البدایہ: جلد 8 صفحہ 196)

کوفہ کے ان شیعوں نے نہ صرف یہ کہ سیدنا حسینؓ کے ساتھ بے وفائی اور غداری کی اور آپؓ کو شہید ہونے دیا، بلکہ شہادت کے بعد آپؓ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہؓ کا سامان بھی لوٹنے میں کوئی حیا نہ کی۔ یہ بات خود سیدہ فاطمہؓ نے بتلائی ہے۔ آپؓ کہتی ہیں کہ میں کمسن بچی تھی، سونے کے دو پازیب میرے پاؤں میں تھے ایک بے حیاء نے وہ دونوں اتار لیے اور روتا تھا میں نے کہا: دشمنِ خدا! (تو میرا سامان لوٹ رہا ہے اور روتا بھی ہے بتاؤ) روتا کیوں ہے؟ اس نے کہا کیوں نہ روؤں، جب میں دخترِ حسینؓ کو لوٹ رہا ہوں میں نے کہا جب تو جانتا ہے کہ یہ پیغمبرﷺ کی بیٹی، (نواسے کی بیٹی) ہے، تو لوٹتا کیوں ہے؟ وہ کہنے لگا: اگر میں نہ لوٹوں تو یہ اور کوئی لے جائے گا۔  

(جلاء العیون: جلد 2 صفحہ 206)

اس سے یہ بات کھلتی ہے کہ ان کا یہ رونا دھونا بس ایک ڈھونگ ہے اگر اس بدبخت کے دل میں ذرا بھی سیدنا حسینؓ و اہلِ بیتؓ کی عزت ہوتی تو کیا وہ آپ کے زیور لوٹتا؟ اس طرح وہ لوگ جنہوں نے سیدنا حسینؓ کی شہادت پر گریہ و ماتم کا ڈھونگ رچایا تھا، وہ سب کے سب بھی تو قاتلان میں سے تھے یا ان غداروں میں سے جنہوں نے آپؓ کے ساتھ بدعہدی کی تھی۔