شہادت سیدنا حسینؓ پر یزید کا ماتم کرنا - دفاعِ اہلِ سنت |…

شہادت سیدنا حسینؓ پر یزید کا ماتم کرنا

  مولانا اقبال رنگونی

پھر سیدنا حسینؓ کا سرمبارک جب یزید کے پاس لایا گیا تو اس نے کس طرح ماتم کیا تھا اسے بھی دیکھیے۔ شیعہ کا مشہور مؤرخ یحییٰ بن لوط بن یحییٰ 157ھ لکھتا ہے کہ:  

وَوَضَعَ الرَّأْسَ فِي طَشْتٍ وَغَطَّاهُ بِمِنْدِيلِ دِيبَقَى وَوَضَعَهُ فِی حِجْرِهِ وَجَعَلَ يَلْطِمُ عَلَى خَدِّهِ وَيَقُولُ: مَالِي وَقَتْلِ الْحُسَيْنِ۔ (مقتل ابی مخنف: صفحہ 139)

یزید نے آپؓ کا سر مبارک ایک طشت میں رکھا، اس پر ریشمی رومال ڈال کر اپنی گود میں رکھا اور اپنے گالوں پر تمانچے مارنے لگا اور کہنے لگا: مجھے قتل حسینؓ سے کیا سروکار تھا؟ بعد ازاں اس نے سیدنا حسینؓ کے سر کو سونے کی تھالی میں رکھا اور کہا:  

رَحِمَكَ اللَّهُ يَا حُسَيْنُ لَقَدْ كُنْتَ حَسَنَ الْمُضْحِكِ۔  

(خلاصۃ المصائب: صفحہ 34)  

ترجمہ: اے حسینؓ! تم پر اللہ کی رحمت ہو، تمہارے ہنسنے کی جگہ کیسی اچھی ہے۔