پروفیسر نے خواہ مخواہ رعب جمانے کے لیے ابو مطر اور نزال کی توثیق سے صفحات بھرے ہیں۔ حالانکہ ان روایات میں اصل جو بات ہے اس کو پروفیسر نے نظر انداز کر دیا ہے۔
ابو مطر کی روایت میں وضاحت ہی نہیں کہ پاؤں کا مسح کیا تھا، اور نزال بن سبرہؒ کی روایت میں یہ وضاحت ہے کہ وہ وضو طہارت کی حالت میں تھا۔