یزید کے گھر تین دن ماتمی مجلس کا انعقاد
مولانا اقبال رنگونیشیعہ باقر مجلسی مزید لکھتا ہے کہ سیدنا حسینؓ کی شہادت کے بعد جب یزید نے آپؓ کے گھر والوں کو شام میں رہنے یا مدینے جانے کا اختیار دیا تو انہوں نے جانے سے پہلے ماتم کرنے کے لیے اجازت طلب کی یزید نے نہ صرف یہ کہ اجازت دی بلکہ ماتم کرنے کے لیے علیحدہ مکان کا انتظام بھی کر دیا۔
شیعہ مجلسی ابو مخنف سے نقل کرتا ہے کہ:
جب مخدراتِ اہلِ بیت عصمت و طہارت اس کے محل میں داخل ہوئے، عوراتِ ابوسفیان (یزید کے گھر والے) نے اپنے زیورات اتار دیے اور لباس ماتم پہن کر باآوازِ نوحہ و گریہ زاری بلند کی اور تین روز ماتم رہا۔
(ایضاً اردو ترجمہ: جلد 2 صفحہ 295، مطبوعہ لاہور)
صبح کو اہلِ بیتِ رسالت کو طلب کر کے ان کو شام میں رہنے یا مدینے کی طرف جانے کا اختیار دیا انہوں نے کہا:
اول ہم کو امام مظلوم کا ماتم برپا کرنے کی اجازت دے۔ اس نے کہا: جو تمہیں منظور ہو وہ کرو اور ایک مکان اہلِ بیتؓ کو دیا اہلِ بیتؓ نے جامہ ہائے سیاہ پہنے اور ملکِ شام میں جس قدر قریش و بنی ہاشم تھے ماتم و گریہ و زاری و تعزیت و سوگواری میں ان کے شریک ہوئے اور سیدنا حسینؓ پر نوحہ و زاری کی۔
(جلاء العیون: جلد 2 صفحہ 251)
شیعہ باقر مجلسی اور شیعہ مؤرخ شیخ عباس قمی 1359ھ نے اس طرح سے نقل کیا ہے:
چون مخدّراتِ اهلِ بیتِ عصمت و جلالت علیهن السلام داخلِ خانہ آن لعین شدند زنانِ آلِ ابوسفیان زیورهای خود را کندند و لباسِ ماتم پوشیدند و صدا بہ گریہ و نوحہ بلند کردند و سہ روز ماتم داشتند۔
(منتہی الامال: جلد 1 صفحہ 105 مطبوعہ ایران)
ترجمہ: جب مخدراتِ اہلِ بیتِ طہارت اس کے محل میں داخل ہوئے، عوراتِ ابی سفیان نے اپنے زیور اتار دیے اور لباسِ ماتم پہن کر باآوازِ نوحہ و گریہ زاری بلند کی اور تین دن ماتم رہا یزید کی بیٹی بے پردہ باہر چلی آئی تو یزید دوڑ کر اس کے پاس آیا اور اس نے اس کے سر پر کپڑا ڈال دیا اور کہا: گھر چلی جا، اور گھر جا کر بزرگِ قریش پر نوحہ و زاری کر، ابنِ زیاد نے ان کے بارے میں جلدی کی، میں ان کے قتل پر راضی نہ تھا۔ (جلاء العیون: جلد 2 صفحہ 295)
ایک شیعہ ذاکر ماتم کی بحث میں لکھتا ہے:
جب اہلِ بیتؓ امام مظلوم یزید کے روبرو لائے گئے تو وہ بڑی نرمی اور مہربانی سے پیش آیا اور انہیں اپنے گھر میں جگہ دی اور ان کو دیکھ کر آل معاویہؓ اور ابوسفیان کی مستورات نے نوحہ و ماتمِ حسین شروع کر دیا ہند زوجہ یزید برہنہ سر ماتم کرتی ہوئی نکل آئی اور بولی: اے یزید کیا نورِ چشمِ فاطمہ (سیدنا حسینؓ) کا سرِ مبارک میرے گھر کے دروازے کے سامنے نیزے پر مصلوب ہے؟ یزید ہند کے پاس کود کر پہنچا اور اسے کپڑوں سے ڈھانکا اور کہا: ہاں تم اس پر ماتم کرو اور زیور اور پارچات اس پر اتار پھینکو۔ اس پر تین دن ماتم کرتی رہو۔ اہلِ کوفہ نے نوحہ و ماتم شروع کر دیا۔
(اخبارِ ماتم: صفحہ 67 ماخوذ از فیصلہ شریعہ فیصلہ: صفحہ 68)
یہ صرف شیعہ رسالہ اخبارِ ماتم کی بات نہیں کہ اسے غیر مستند کتاب کہہ کر جان چھڑا لی جائے شیعہ کی مستند کتابوں میں بھی یہی بیان موجود ہے جیسا کہ ہم اوپر بتا آئے ہیں۔
