اثناء عشریہ فرقہ اور اسماعیلی فرقہ کی نماز جنازہ پڑھنے ان…

اثناء عشریہ فرقہ اور اسماعیلی فرقہ کی نماز جنازہ پڑھنے ان کو شریک نماز جنازہ کرنے اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کا حکم


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:

1: ہمارے دور میں اثناءِ عشریہ (شیعہ فرقہ) اور پرنس کریم آغا خان کو اپنا دیوتا تسلیم کرنے والا اسماعیلی فرقہ، قرآن و سنت کی روشنی میں مومن ہے یا نہیں؟

2: ان کے ساتھ سلسلہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟

3: ان کا ذبیحہ اور نذر و نیاز کی چیزیں کھانا حلال ہے یا حرام؟

4: ان کی نمازِ جنازہ پڑھنا، ان کو شریکِ نمازِ جنازہ کرنا، مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا اور قومی و صوبائی اسمبلی کی رکنیت کے لیے یا بلدیاتی رکنیت کے لیے بطورِ کونسلر منتخب کرنا حلال ہے یا حرام؟

جواب: آج کل کے شیعہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ پر تبرا کرتے ہیں، ان کی خلافت کا انکار کرتے ہیں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، جن کی برأت میں قرآن نازل ہوا، اب تک ان پر تہمت لگاتے ہیں۔

ہمارے تمام فقہاء اور ائمہ اربعہ کے نزدیک حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا انکار اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانا کفر ہے اور یہ اپنا کلمہ بھی علیحدہ کر کے خود ہی مسلمانوں سے جدا ہو چکے ہیں۔

آغا خانی تو خود ہی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے اور حقیقتاً نہ ہی ان کا اسلام سے کوئی تعلق ہے ان دونوں گروہوں سے مسلمانوں جیسا کوئی تعلق اور برتاؤ جائز نہیں سوال میں مذکور تمام امور حرام ہیں۔  

(وقار الفتاویٰ: جلد1 صفحہ 295)