مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد وقار الدین قادری رضوی کا فتویٰ اہل تشیع کی نماز جنازہ پڑھنے کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہمارے علاقہ میں دستور ہے کہ جب کوئی شیعہ شخص فوت ہو جاتا ہے تو اس کی نمازِ جنازہ پڑھنے کے لیے سنی لوگ بھی پہنچ جاتے ہیں پہلے سنی اپنے ہم عقیدہ امام کی اقتداء میں نمازِ جنازہ پڑھتے ہیں، پھر شیعہ اپنے ہم خیال کے پیچھے پانچ تکبیروں کے ساتھ نمازِ جنازہ پڑھتے ہیں۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اہلِ سنت کا شیعہ کی اپنے طریقے کے مطابق نمازِ جنازہ پڑھنا از روئے شرع جائز ہے یا نا جائز؟ اور ان سنیوں پر جو حکمِ شرعی عائد ہوتا ہے اسے بیان کیا جائے۔
جواب: آج کل کے شیعہ عام طور پر تبرائی ہیں سیدنا صدیقِ اکبرؓ اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی خلافت کے منکر ہیں، ان کو (معاذ اللہ) غاصب و خائن کہتے ہیں، اپنا کلمہ جدا کر لیا ہے، اور یہ کلمہ پڑھتے ہیں: لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ علی خلیفۃ اللہ بلا فصل۔
یہ شیعوں کا کلمہ ہے جو تحریف سے خالی نہیں اسی طرح اذان میں بھی اضافہ کر کے سیدنا علی المرتضیٰؓ کو خلیفہ بلا فصل بتاتے ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالی گلوچ کرتے ہیں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، جن کی براءت قرآنِ کریم نے کی، آج تک ان پر تہمت لگاتے ہیں۔
ان شیعوں کے متعلق فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
ولو قذف عائشة بالزنا کفر باللہ۔
ترجمہ: اور جس نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر زنا کی تہمت لگائی وہ اللہ تعالیٰ کا منکر ہے۔
اس کے بعد فرمایا: من انکر امامة ابی بکر الصدیق فهو کافر۔
ترجمہ: جس نے حضرت صدیقِ اکبرؓ کی امامت کا انکار کیا وہ کافر ہے۔
اور اسی صفحہ پر ہے: وکذلك من انکر خلافة عمر فی اصح الاقوال کذا فی الظہیریة۔
ترجمہ: اور اسی طرح جس نے سیدنا فاروقِ اعظم کی خلافت کا انکار کیا وہ کافر ہے، صحیح تر قول کے مطابق، ایسا ہی فتاویٰ ظہیریہ میں ہے۔
اور فرمایا: وھؤلاء القوم خارجون عن ملة الاسلام واحکامهم احکام المرتدین، کذا فی الظہیریة۔
ترجمہ: اور یہ لوگ مذہبِ اسلام سے خارج ہیں، اور ان کے احکام مرتدوں کے احکام کی طرح ہیں اسی طرح فتاویٰ ظہیریہ میں ہے۔
ان عقائد والوں کے لیے مغفرت کی دعا کرنا کفر ہے نمازِ جنازہ بھی دراصل دعا ہے لہٰذا ان کی نمازِ جنازہ پڑھنا بھی کفر ہے جن لوگوں نے جان بوجھ کر ایسے لوگوں کی نمازِ جنازہ پڑھی وہ توبہ کریں، پھر سے ایمان لائیں اور شادی شدہ ہیں تو نکاح بھی کریں۔
(وقار الفتاویٰ: جلد1 صفحہ 289)
