قاتل حسینؓ شمر کا انعام مانگنے پر یزید کا غصہ کرنا
مولانا اقبال رنگونیاسی طرح جب بدبخت شمر بن ذی الجوشن نے سیدنا حسینؓ کا سرِ مبارک یزید کے سامنے پیش کرتے ہوئے فخریہ کہا کہ:
امْلَأْ رِكَابِی فِضَّةً وَذَهَبَا
قَتَلْتُ خَيْرَ النَّاسِ أُمًّا وَأَبَا
ترجمہ: یعنی میرے رکاب کو سونے چاندی سے بھر دے، کہ میں نے اس کو قتل کیا جو ماں باپ کی طرف سے تمام جہاں سے بہتر تھا۔
یہ سن کر یزید غصہ ہوا اور شمر کی طرف دیکھ کر بولا:
قَالَ مَلَأَ اللَّهُ رِكَابَكَ نَارًا، وَيْلٌ لَكَ إِذْ عَلِمْتَ أَنَّهُ خَيْرُ الْخَلْقِ فَلِمَ قَتَلْتَهُ، اخْرُجْ مِنْ بَيْنِ يَدَی لَا جَائِزَةَ لَكَ عِنْدِی۔
(خلاصۃ المصائب: صفحہ 304)
ترجمہ: خدا تیرے رکاب (برتن، تھیلے) کو آگ سے بھرے، تیرے لیے خرابی ہو! جب تو جانتا تھا کہ سیدنا حسینؓ بہترین خلق ہیں تو نے ان کو کیوں قتل کیا؟ نکل جا میرے سامنے سے، تیرے لیے میرے پاس کچھ جائزہ نہیں ہے۔
یزید کے اس جواب کو شیعہ مؤرخ مؤلف ناسخ التواریخ نے بھی بایں الفاظ نقل کیا ہے کہ یزید گفت: برگز ترا از من جائزه نخواہد رسید شمر خائف و خاسر باز گشت و از دنیا و آخرت بی بہرہ ماند۔ (صفحہ 269)
ترجمہ: یزید نے کہا کہ میری طرف سے تجھ کو ہرگز انعام نہ ملے گا شمر یہ سن کر خائف و خاسر واپس ہوا اور اس طرح وہ دنیا و آخرت سے بے نصیب رہا۔
(قاتلانِ حسین: صفحہ 17، از مولانا عبدالشکور مرزا پوری)
شیعہ علماء کم از کم لوگوں کو ایک دھوکے میں تو نہ رکھیں کہ سیدنا حسینؓ کے قاتلین اہلِ شام تھے، ان میں سے کوئی بھی عراقی نہ تھا اور نہ آپؓ کے قاتل کوفہ کے شیعہ تھے سچ اور حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں کی یہ بات غلط ہے۔
