یزید نے قاتلانِ حسینؓ میں سے ایک کو قتل کرایا - دفاعِ اہلِ…

یزید نے قاتلانِ حسینؓ میں سے ایک کو قتل کرایا

  مولانا اقبال رنگونی

شیعہ خمینی کے ممدوح شیعہ باقر مجلسی کے ایک بیان سے پتہ چلتا ہے کہ جس کے ہاتھ سیدنا حسینؓ کے خون سے رنگین تھے یزید نے اس کو قتل کرا دیا تھا شیعہ باقر مجلسی لکھتا ہے: 

قطب راوندی نے الحمش سے روایت کی میں ان میں سے ہوں جو جو عمرو بن سعد کے لشکر میں تھا ان 40 نفر (آدمیوں میں) سے ہوں جو سیدنا حسینؓ کا سر شام لے گئے تھے اور راہ میں بہت معجزات سرِ بزرگوار سے مشاہدے کیے۔ جب ہم دمشق داخل ہوئے، جس روز سرِ مطہر کو یزید کی مجلس میں لیے جاتے تھے، قاتل نے سرِ مبارک اٹھا کر یہ رجز پڑھا: 

ترجمہ: میں نے بادشاہ بزرگوار کو قتل کیا ہے جو سب سے افضل ہے۔ 

یزید نے کہا: جب کہ تو جانتا تھا کہ وہ ایسے بزرگ ہیں تو پھر کیوں ان کو قتل کیا؟ اس کے بعد یزید نے اس کے قتل کا حکم دے دیا۔  

(جلاء العیون: جلد 2، صفحہ 248)

شیعہ باقر مجلسی لکھتا ہے کہ جس وقت وہ سیدنا حسینؓ کے خون سے اپنا ہاتھ دھو رہا تھا اس وقت اس نے کہا:  

سر ترا جدا میکنم و میدانم کہ تو فرزند رسول خدائی و مادر و پدر تو بہترین خلقند۔ (ایضاً: صفحہ 410)  

ترجمہ: میں تمہارا سر بدن سے الگ کر رہا ہوں حالانکہ میں اعتقاد رکھتا ہوں کہ تو رسولِ خداﷺ کا فرزند ہے اور تیرے ماں باپ مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔