پروفیسر کا سوال - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

پروفیسر کا سوال

  حافظ عبدالقدوس خان قارن

پروفیسر لکھتے ہیں کہ: اہلِ سنت کے معتبر عالم فخر الدین رازیؒ نے اس بحث سے کیا نتیجہ نکالا؟ (صفحہ40)

جواب: پروفیسر سے گزارش ہے کہ جس عبارت کو وہ امام رازیؒ کی بحث کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، وہ ان کی بحث کا نتیجہ نہیں ہے۔ بلکہ اس عبارت میں انہوں نے ایک طبقے کا نظریہ پیش کیا ہے۔ اور پھر وَاعلَم کے الفاظ سے مخاطب کو توجہ دلا کر فرمایا کہ مخالفین کے نظریے کا جواب دو طرح دیا جا سکتا ہے۔ اور یہی ان کی بحث کا نتیجہ ہے:

الأَوَّلُ: إِنَّ الأَخْبَارَ الكَثِيرَةَ وَرَدَت بِإِيجَابِ الغَسلِ وَالغَسلُ مُشتَمِلٌ عَلَى المَسحِ وَلَا يَنعَكِسُ فَكَانَ الغَسلُ أَقرَبَ إِلَى الِاحتِيَاطِ فَوَجَبَ المَصِيرُ إِلَيهِ وَعَلَىٰ هٰذَا الوَجهِ يَجِبُ القَطعُ بِأَنَّ غَسلَ الرِّجلِ يَقُومُ مَقَامَ مَسحِهَا

الثَّانِی: إِنَّ الرِّجلَينِ مَحدُودَةٌ إِلَى الكَعبَينِ وَالتَّحدِيدُ إِنَّمَا جَاءَ فِی الغَسلِ، لَا فِی المَسحِ  

(تفسیر کبیر: جلد11 صفحہ162)

ترجمہ: پہلی وجہ یہ ہے کہ بے شک کثیر احادیث پاؤں دھونے کے وجوب پر وارد ہوئی ہیں، اور دھونا مسح کو شامل ہے اور اس کا الٹ نہیں ہو سکتا۔ اس لیے احتیاط کے زیادہ قریب دھونا ہی ہے، اس لیے اس کی جانب جانا واجب ہے۔ اس صورت میں پختہ یقین ہو جاتا ہے کہ پاؤں کا دھونا اس کے مسح کے قائم مقام ہے۔ (یعنی پاؤں دھونے سے ضمناً مسح بھی ہو جاتا ہے۔) دوسری وجہ یہ ہے کہ پاؤں کے دھونے کو کعبین تک محدود کیا گیا ہے اور تحدید صرف دھونے میں آئی ہے مسح کے بارے میں تحدید نہیں آئی۔ پروفیسر صاحب غور فرمائیں کہ امام رازیؒ تو پاؤں دھونے کو واجب فرما رہے ہیں، اور یہی اپنی بحث کا نتیجہ نکال رہے ہیں۔