بریلوی اور اہلِ حدیث مسلک کے علماء کے فتاویٰ جات اجمل…

بریلوی اور اہلِ حدیث مسلک کے علماء کے فتاویٰ جات اجمل العلماء حضرت علامہ مفتی الشاۃ محمد اجمل قادری رضوی سنبھلی کا فتویٰ خوجہ مذہب والا فرقہ در حقیقت روافض کی شاخ ہے ان کا جنازہ پڑھنے پڑھانے کا حکم


سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرعِ متین درج ذیل مسائل میں کہ: 

1: خوجہ مذہب والا فرقہ در حقیقت روافض کی شاخ ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو روافض کی اقسامِ ثلاثہ میں سے کس قسم میں داخل ہے؟ اور اگر نہیں تو اس فرقے کا اصل مذہب کیا ہے؟ یہ فرقہ ناجیہ میں داخل ہے یا نہیں؟ خوجہ مذہب کی حقیقت واضح فرمائیں۔

2: خوجہ مذہب والے کی نمازِ جنازہ سنیوں کو پڑھنی پڑھانی شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ نیز خوجہ مذہب کے دیگر مذہبی امور میں ان کے کھانے پینے میں سنیوں کی شرکت شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ جو باوجودِ علم کے خوجہ مذہب یا کسی گمراہ فرقے سے تعلقات مذہبی قائم رکھے، ان کے بتائے مشورہ میں ان کے کھانے پینے میں شرکت کرے، ایسے لوگوں کا شرعاً کیا حکم ہے؟

3: آغا خان کس عقیدے کا آدمی ہے؟ اس کی اتباع شرعاً درست ہے یا نہیں؟ جو شخص آغا خان کو اپنا مذہبی پیشوا و مقتداء جانے، امام فی المذہب عقیدہ رکھے اور اس کو با اعلان آقا و نامدار کہے، ایسے شخص کا شرعاً کیا حکم ہے؟ اور کیا آغا خان کے متبعین کو شرعاً کافر و مرتد سمجھنا روا ہے یا نہیں؟

جواب 1:  خوجہ مذہب روافض ہی میں داخل ہے اور یہ فرقہ ہرگز ہرگز فرقہ ناجیہ نہیں ہے کیونکہ فرقہ ناجیہ صرف اہلِ سنت و الجماعت ہے ترمذی شریف میں حدیثِ شریف ہے: حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا: میری امت تہتر مذہب پر متفرق ہو جائے گی لیکن سوائے ایک مذہب کے سب کے سب دوزخی ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ ایک فرقہ کون سا ہے؟ حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا وہ مذہب جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔

اس حدیثِ شریف سے ثابت ہو گیا کہ جو فرقہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نہ مانے اور ان کے طریقے پر نہ چلے وہ یقیناً دوزخی ہے اور ظاہر ہے کہ جب خوجہ مذہب روافض سے ہے تو وہ نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مانتے ہیں نہ ان کے طریقے پر چلتے ہیں تو ان کا دوزخی ہونا حدیثِ شریف سے ثابت ہو گیا۔

دارقطنی کی حدیث میں ہے جو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا:

سیأتی من بعدی قوم لهم نبز یقال لهم الرافضة فان ادرکتموهم فاقتلوهم فانهم مشرکون قال فقلت یا رسول اللہﷺ ما العلامة فیهم؟ قال یفرطونک بما لیس فیک ویطعنون على السلف۔ 

ترجمہ: عنقریب میرے بعد ایک قوم آئے گی جس کا لقب "رافضی" کہا جائے گا، تو اگر تم انہیں پاؤ تو ان کو قتل کر ڈالنا، کیونکہ وہ مشرک ہیں حضرت علیؓ نے دریافت کیا: یا رسول اللہﷺ ان کی علامت کیا ہے؟ حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا وہ لوگ تیرے متعلق حد سے تجاوز کریں گے یہاں تک کہ جو بات تجھ میں نہیں ہے وہ بھی کہیں گے اور سلف پر طعن کریں گے۔

اس حدیثِ شریف نے روافض کا نام اور علامت اور حکم سب کچھ ہی ظاہر کر دیا تو یہ فرقہ رافضی ہونے کے باوجود فرقہ ناجیہ کیسے ہو سکتا ہے؟

2: جب فرقہ خوجہ گمراہ روافض میں سے قرار پایا تو اس فرقے کے کسی شخص کی نمازِ جنازہ سنیوں کو کس طرح جائز ہو سکتی ہے؟ حدیثِ شریف میں تو یہاں تک ممانعت ہے کہ حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا 

ان مرضوا فلا تعودوهم وان ماتوا فلا تشهدوهم۔ 

اور بد مذہب بیمار ہوں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر مر جائیں تو ان کی نمازِ جنازہ میں حاضر نہ ہوں۔

اسی طرح ان کے مذہبی امور اور کھانے پینے میں سنیوں کو شریک ہونا جائز نہیں حدیثِ شریف میں ہے جس کو عقیلی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا 

عن انس ان اللہ اختارنی و اختار لی اصحابا و اصہارا وسیأتی قوم یسبونهم و ینقصونهم فلا تجالسوهم ولا تشاربوهم ولا تؤاکلوهم ولا تناکحوهم ولا تصلوا علیهم ولا تصلوا معهم۔  

ترجمہ: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ کو منتخب کیا اور میرے لیے میرے اصحاب و اقارب منتخب کیے اور عنقریب ایک قوم آئے گی جو انہیں گالیاں دے گی اور ان کی تنقیصِ شان کرے گی پس تم ان کے پاس مت بیٹھو، اور ان کے یہاں مت کھاؤ پیو، اور ان سے مت نکاح کرو۔

اس حدیثِ شریف سے صاف ظاہر ہو گیا کہ ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا شرعاً ممنوع ہے اب باوجود اس کے جو ان کے امور میں شرکت کرے، ان کے ساتھ کھائے پیے، وہ فاسق اور مرتکبِ حرام ہے، اور ان احادیث کے احکام کے خلاف ہے۔

3: جب خوجہ اور آغا خان کی کوئی کتاب اگر نظر سے گزری ہوتی تو اس سے ان کا پورا عقیدہ اور ان کی گمراہی کی پوری حقیقت پیش کر دی جاتی لیکن چونکہ اس مذہب کی گمراہی و ضلالت اور آغا خان کا گروہِ ضال سے ہونا معلوم ہے، اس لیے مجمل احکام تحریر کیے گئے۔

لہٰذا اس کا اتباع کسی طرح شرعاً درست نہیں اور جو شخص اسے اپنا پیشواء و مقتداء اور امام فی المذہب یا آقائے نامدار مانے اور اس کی اتباع و پیروی کرے، وہ یقیناً گمراہ و ضال اور بے دین و مخالفِ اہلِ سنت و الجماعت ہے۔  

(فتاویٰ اجملیہ: جلد 1 صفحہ 291)