سیدنا حسینؓ کی شہادت پر یزید نے کیا کہا؟ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سیدنا حسینؓ کی شہادت پر یزید نے کیا کہا؟

  مولانا اقبال رنگونی

جب یزید کو سیدنا حسینؓ، آپ کے گھر والے اور آپ کے رفقاء کی شہادت کی خبر ملی تو اسے افسوس ہوا اور اس نے عبید اللہ بن زیاد پر لعنت بھی کی اور کہا کہ جب سیدنا حسینؓ نے تین باتوں میں سے کسی ایک بات پر اپنی رضا کا اظہار کر دیا تھا تو ابنِ زیاد نے کیوں ان کی بات نہ مانی اور ان کی جان کیوں لی؟ یزید کا کہنا تھا کہ اسی ابنِ زیاد کی وجہ سے مسلمانوں کی نظروں میں وہ برا اور قابلِ مذمت بنا ہے اور ان کے دلوں میں اس کے خلاف نفرت بھر دی گئی خدا اس پر لعنت کرے، اس کو رسوا کرے اور اس پر اپنا غضب اتارے۔

امام شمس الدین ذہبیؒ(748ھ) نے سیر اعلام النبلاء میں اور حافظ ابنِ کثیرؒ (774ھ) نے البدایہ میں یزید کا یہ بیان اس طرح نقل کیا ہے:  

لَعَنَ اللَّهُ ابْنَ مَرْجَانَةَ فَإِنَّهُ أَخْرَجَهُ وَاضْطَرَّهُ، وَقَدْ كَانَ سَأَلَهُ أَنْ يُخَلِّی سَبِيلَهُ أَوْ يَأْتِيَنِی أَوْ يَكُونَ بِثَغْرٍ مِنْ ثُغُورِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى يَتَوَفَّاهُ اللَّهُ تَعَالَى، فَلَمْ يَفْعَلْ، وَأَبَى عَلَيْهِ وَقَتَلَهُ، فَبَغَّضَنِی بِقَتْلِهِ إِلَى الْمُسْلِمِينَ، وَزَرَعَ لِی فِی قُلُوبِهِمُ الْعَدَاوَةَ، فَأَبْغَضَنِي الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ بِمَا اسْتَعْظَمَ النَّاسُ مِنْ قَتْلِی حُسَيْنًا، مَا لِی وَلِابْنِ مَرْجَانَةَ، لَعَنَهُ اللَّهُ، وَغَضِبَ عَلَيْهِ۔ (البدایہ: جلد 8، صفحہ 232)

اللہ ابنِ مرجانہ پر لعنت کرے کہ اس نے سیدنا حسینؓ کو تنگ اور مجبور کیا، حالانکہ انہوں نے اس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ آپ کا راستہ چھوڑ دے یا وہ میرے پاس آ جاتے یا وہ مسلمانوں کی کسی سرحد پر چلے جاتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے پاس بلا لے مگر ابنِ مرجانہ نے ایسا نہیں کیا اور ان کی بات نہ مانی اور انہیں قتل کر دیا۔ اس نے آپ کو قتل کر کے مجھے مسلمانوں کا مبغوض بنا دیا ہے اور ان کے دلوں میں میرے خلاف عداوت اور نفرت کا بیج بو دیا ہے، جس کی وجہ سے ہر نیک و بد شخص مجھ سے اس لیے نفرت اور بغض رکھتا ہے کہ میں نے سیدنا حسینؓ کو قتل کروایا ہے۔ مجھے ابنِ مرجانہ سے کیا واسطہ؟ اللہ اس پر لعنت کرے اور اس پر اپنا غضب اتارے۔