پروفیسر کا پیش کردہ نقشہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

پروفیسر کا پیش کردہ نقشہ

  حافظ عبدالقدوس خان قارن

پروفیسر نے ایک نقشہ پیش کیا ہے جس میں انہوں نے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اَرۡجُلَكُمۡ کا تعلق اَيۡدِيَكُمۡ پر عطف کر کے فَاغۡسِلُوۡا کے ساتھ نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کا تعلق وَامۡسَحُوۡا کے ساتھ ہو گا۔ انہوں نے نقشہ یوں پیش کیا ہے:  

فَاغۡسِلُوۡا (فعل) وُجُوۡهَكُمۡ (مفعول) اَيۡدِيَكُمۡ اِلَى الۡمَرَافِقِ (مفعول) وَامۡسَحُوۡا (فعل) بِرُءُوۡسِكُمۡ (مفعول) وَاَرۡجُلَكُمۡ اِلَى الۡـكَعۡبَيۡنِ‌ (مفعول) (أَنتُم فاعل پوشیدہ ہے)

یہ نقشہ پیش کر کے پروفیسر لکھتے ہیں: یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک جملے کے مفعول کے اپنے فعل کو چھوڑ کر اس کا تعلق کسی اور جملہ کے فعل سے جوڑ دیا جائے۔ (صفحہ، 37)

اور اس سے قبل پروفیسر نے لکھا ہے: ہم حیران ہیں کہ سکول کی چند کلاسیں پڑھنے والا بچہ بھی یہ جانتا ہے کہ ہر زبان کا جملہ فعل، فاعل اور مفعول سے مکمل ہوتا ہے۔ الخ مگر ہمیں حیرانگی یہ ہے کہ ہمارے درسِ نظامی میں علم الصرف پڑھنے والا پہلے سال کا طالب علم بھی جانتا ہے کہ امرِ حاضر معلوم کی گردان میں جمع کے صیغے کا آخری حرف جو ضمیر ہوتا ہے، وہی فاعل بنتا ہے۔ اس لحاظ سے فَاغۡسِلُوۡا اور وَامۡسَحُوۡا کے آخر میں واو ضمیر بارز ہی فاعل ہے۔ مگر پروفیسر  لکھتے ہیں کہ أَنتُم فاعل پوشیدہ ہے۔ اور ہماری پروفیسر صاحب سے درخواست ہے کہ وہ علمِ نحو کی ضَرَبَنِی وَأَكرَمَنِی زَيدٌ اور ضربت واكرمت زَيدا کے ابحاث کسی عالم سے پڑھ لیں، تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ ایک فعل کے ساتھ مل کر آنے والے اسم کا تعلق قریب والے فعل سے چھوڑ کر پہلے فعل کے ساتھ ہو سکتا ہے یا نہیں؟