اہلِ سنت کا اَرۡجُلِكُمۡ کی قرأت کے بارے میں نظریہ - ردِ…

اہلِ سنت کا اَرۡجُلِكُمۡ کی قرأت کے بارے میں نظریہ

  حافظ عبدالقدوس خان قارن

اگر اَرۡجُلِكُمۡ میں لام کا کسرہ پڑھا جائے تو یہ قرأت بھی اہلِ سنت کے نزدیک درست ہے۔ پروفیسر نے جتنے قراء اور مفسرین کے حوالے دیئے ہیں کہ وہ اَرۡجُلِكُمۡ میں لام کے کسرہ سے قرأت کرتے تھے، تو بالکل درست ہے کہ وہ اسی انداز سے قرأت کرتے تھے۔ مگر ان میں سے کوئی بھی طہارت کے لیے کیے گئے وضو میں ننگے پاؤں ہونے کی صورت میں پاؤں کے مسح کا قائل نہیں تھا، اور نہ ہی ان میں سے کسی سے ایسا ثابت ہے۔

اور جن لوگوں کے بارے میں، مثلاً حضرت ابنِ مسعود، حضرت ابنِ عباس اور حضرت انس رضی اللہ عنہم کے بارے میں جو آتا ہے کہ وہ مسح کے قائل تھے، تو ان کے بارے میں حافظ ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں:  

وَقَد صَحَّ الرُّجُوعُ عَنهُم  

(فتح الباری: جلد، 1 صفحہ، 213)  

ترجمہ: کہ ان سے رجوع ثابت ہے۔