پروفیسر لکھتے ہیں: یہ بھی واضح رہے کہ شیعہ کے نزدیک دونوں اعراب درست ہیں۔ اگر اَرۡجُلِكُمۡ یہ لفظ زیر پڑھی جائے یا زبر پڑھی جائے، دونوں صورتوں میں پاؤں کا مسح کرنا واجب ہے۔ (صفحہ، 25)
اس عبارت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پروفیسر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ دونوں قرأتوں کی صورت میں شیعہ کا اس پر عمل ہے۔ حالانکہ قاعدے کے مطابق ان کا یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔
اس لیے کہ اگر اَرۡجُلَكُمۡ کا عطف اَيۡدِيَكُمۡ پر کر کے اس کو دھونے والے اعضاء میں شامل کیا جائے، جیسا کہ اہلِ سنت کرتے ہیں، تو اس پر شیعہ حضرات کا عمل نہیں، اس لیے کہ وہ پاؤں کے دھونے کے قائل ہی نہیں۔
اور اگر اس کو براہِ راست وَامۡسَحُوۡا کا مفعول بنایا جائے، جیسا کہ خود پروفیسر نے لکھا ہے کہ اگر اَرۡجُلَكُمۡ یہ لام پر زبر پڑھی جائے تو پھر پاؤں کا مسح کرنا واجب ہے، اَرۡجُلَكُمۡ لفظ وَامسَحُوا کا مفعول ہے، لہٰذا زبر درست ہے۔ (صفحہ 39)
یہ لکھتے وقت شاید پروفیسر صاحب اپنا نظریہ بھول گئے ہیں کہ ان کے نزدیک پاؤں کے بعض حصے کا مسح واجب ہے۔ جبکہ اَرۡجُلَكُمۡ کو وَامۡسَحُوۡا کا مفعول بنانے کی صورت میں سارے پاؤں کا مسح کرنا ضروری ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے کہ بعضیت تو اس باء کی وجہ سے ثابت ہوتی ہے جو بِرُءُوۡسِكُمۡ میں ہے۔
جیسا کہ خود پروفیسر صاحب لکھتے ہیں: ان اقوال سے اور بِرُءُوۡسِكُمۡ کی ب سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ سر کے بعض حصے کا مسح کرنا چاہیے۔
صاحب منتہی الارب لکھتے ہیں کہ وَامۡسَحُوۡا بِرُءُوۡسِكُمۡ کی ب بھی اسی طرح بعضیت کے معنیٰ دیتی ہے۔ (صفحہ، 25)
اور ایک مقام میں لکھتے ہیں: بِرُءُوۡسِكُمۡ کی ب بعضیت کے معنیٰ دیتی ہے۔ (صفحہ، 33)
جب ب بعضیت کا معنیٰ دیتی ہے، اور اَرۡجُلَكُمۡ کو باء کے تحت شامل ہی نہیں کیا گیا بلکہ براہِ راست وَامۡسَحُوۡا کا مفعول بنایا گیا ہے، تو اس کی حیثیت ایسی ہو گی جیسی فَاغۡسِلُوۡا وُجُوۡهَكُمۡ کی ہے۔ اور چہرہ سارا دھونا ضروری ہے، تو پاؤں سارے کا مسح بھی پروفیسر صاحب اور ان کے طبقے کے ہاں ضروری ہونا چاہیے۔ حالانکہ وہ اس کے قائل نہیں ہیں۔ اس لیے کہ انہوں نے خود لکھا ہے کہ پاؤں کا مسح جس قدر بھی ہو کافی ہے، اگرچہ ایک انگلی ہو۔ (صفحہ، 14)
اس لیے یہ دعویٰ غلط ہے کہ اَرۡجُلَكُمۡ کے لام کے فتح کی صورت میں بھی شیعہ حضرات کا اس پر عمل ہے۔