حضرت مولانا محمد عبد الحئی لکھنوی فرنگی محلی رحمۃاللہ کا فتویٰ روافض اور سنی کے درمیان جنازوں میں آمدورفت کا حکم
سوال: اس ملک کا رواج ہے کہ روافض اور اہلِ سنت میں خوشی اور غمی کے وقت ہر طرح کی شرکت امور دنیاوی میں رہتی ہے اور غمی میں یہ ہوتا ہے کہ سنی لوگ روافض کے یہاں جا کر کلمات تسکین و تعزیت کے کہتے ہیں اور قبرستان تک ساتھ جاتے ہیں اور صرف مٹی دینے میں شرکت رہتی ہے اور نماز و غسل و تکفین وغیرہ سے کچھ واسطہ نہیں۔ علی هذا القیاس روافض کا بھی یہی قائدہ ہے پس یہ جائز ہے یا نہیں؟
جواب:جو رافضی غیر مرتدین و کافرین ہیں ان کے لیے جائز ہے ورنہ نہیں۔
اللہ تعالیٰ جل شانہ فرماتے ہیں:
وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓى اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمۡ عَلٰى قَبۡرِهٖ اِنَّهُمۡ كَفَرُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَمَاتُوۡا وَهُمۡ فٰسِقُوۡنَ ۞
(سورۃ التوبہ: آیت 84)
ترجمہ: ان میں سے کسی پر نماز نہ پڑھو اور نہ ان کی قبر پر کھڑے ہو، انہوں نے خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور حالت فسق میں مرے۔
قاضی بیضاویؒ انوار التنزیل فی اسرار التاویل میں لکھتے ہیں:
ولا تقم على قبره ولا تقف عند قبره للدفن او الزيارة
ان کی قبروں کے پاس دفن اور زیارت کے لیے نہ کھڑے ہو۔
(مجموعہ الفتاویٰ اردو: جلد 1 صفحہ 340)
