کوفہ والوں تم بہت برے لوگ ہو - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

کوفہ والوں تم بہت برے لوگ ہو

  مولانا اقبال رنگونی

سیدنا حسینؓ نے اپنی شہادت والے دن اپنے سامنے کھڑے مخالفوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:  

وَيْلَكُمْ يَا أَهْلَ الْكُوفَةِ أَنَسِيتُمْ كُتُبَكُمْ وَعُهُودَكُمُ الَّتِی أَعْطَيْتُمُونَهَا وَأَشْهَدْتُمُ اللَّهَ عَلَيْهَا؟ يَا وَيْلَكُمْ أَدَعَوْتُمُ أَهْلَ بَيْتِ نَبِيِّكُمْ وَزَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ تَقْتُلُونَ أَنْفُسَكُمْ دُونَهُمْ، حَتَّى إِذَا أَتَوْكُمْ أَسْلَمْتُمُوهُمْ إِلَى ابْنِ زِيَادٍ، وَحَلَأْتُمُوهُمْ عَنْ مَاءِ الْفُرَاتِ؟ بِئْسَ مَا خَلَّفْتُمْ نَبِيَّكُمْ فِی ذُرِّيَّتِهِ، مَا لَكُمْ لَا سَقَاكُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَبِئْسَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ۔  

(بحارُ الانوار: جلد 45 صفحہ 5، ذبحِ عظیم: صفحہ 335)

ترجمہ: خرابی ہو تم پر اے اہلِ کوفہ! کیا تم اپنے خطوں اور وعدوں کو بھول گئے جس میں خدا کو درمیان میں دے کر لکھا تھا کہ اہلِ بیتؓ آئیں ہم ان کی نصرت و متابعت میں اپنی جانیں نچھاور کر دیں گے؟ تم پر افسوس ہے کہ جب وہ آ گئے تو تم نے ان کو ابنِ زیاد کے حوالے کر دیا اور ان پر دریائے فرات کا پانی بند کر دیا۔ واقعی تم لوگ رسول اللہﷺ کے بدترین اخلاف ہو کہ ان کی ذریتِ طاہرہ کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہو۔ خدا قیامت میں تم کو سیراب نہ کرے تم بہت برے لوگ ہو۔(قاتلانِ حسینؓ: صفحہ 44)

آپ کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں کے ذمہ دار کون تھے اسے خود سیدنا حسینؓ نے بتلا دیا آپ نے فرمایا:  

إِنِّی أَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ بَايَعُونِی بِأَلْسِنَتِهِمْ وَقُلُوبِهِمْ، وَقَدِ انْعَكَسَ الْأَمْرُ لِأَنَّهُمُ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَأَنْسَاهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ، وَالْآنَ لَيْسَ لَهُمْ مَقْصِدٌ إِلَّا قَتْلِی وَقَتْلَ مَنْ يُجَاهِدُ بَيْنَ يَدَی۔  

(موسوعۃ کلمات الامام الحسین: صفحہ 483)

ترجمہ: سیدنا حسینؓ نے فرمایا کہ میں تو یہ سمجھ کر کوفیوں کے پاس جا رہا تھا کہ انہوں نے زبان اور دلوں سے میری بیعت کی ہے، لیکن معاملہ اس کے برعکس نکلا (اور انہوں نے مجھے دھوکہ دیا یہ زبان اور دل کے کھوٹے نکلے) ان کوفیوں پر شیطان نے قابو پا لیا ہے اور انہیں اللہ کی یاد سے بھلا دیا ہے اب ان کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ یہ مجھے اور میرے ساتھ آنے والوں کو شہید کر ڈالیں۔