رئیس المناظرین حضرت مولانا ابو الفضل مولوی محمد کرم الدین دبیر رحمۃاللہ ساکن بھیس ضلع جہلم کا فتویٰ شیعہ، سنیوں کے جنازہ میں شریک ہو کر بد دعا کرتے ہیں لہٰذا ان کو اپنے جنازوں میں شریک نہ ہونے دیں
شیعہ کے کتابوں میں لکھا ہے کہ اول تو سنی کا جنازہ نہ پڑھا جائے، اگر ضرورت کی وجہ سے پڑھے تو دعا کی بجائے سنی میت پر اس طرح بد دعا کرے: اے خدا اس بندے کی میت کو اپنے بندوں اور اپنے شہروں میں ذلیل و رسوا کر، اے خدا اس کو جہنم کی آگ سے جلا دے، اے خدا اس کو سخت ترین عذاب دے۔
سنیو! جانتے ہو، یہ لوگ تمہارے جنازوں میں شامل ہو کر میت کے لیے کیا بد دعا کرتے ہیں کیا تم اس بات کو گوارا کر سکتے ہو کہ ایک شخص تمہاری والدہ یا والد یا لیڈر یا بزرگ کی میت کے جنازہ پر کھڑا ہو کر اس کے لیے بد دعائیں کرے؟
بقول شاعر:
نہ آنے دیجیے انہیں لاش پر خدا کے لیے
نماز پڑھنے جو آئیں گے بد دعا کے لیے
(آفتابِ ہدایت و در رد بدعت: صفحہ 214)
